عورت كا مسجد میں جا کر نماز پڑھنا

سوال:

اجماع کیا ہے؟ اور اگر اُمّت کا اجماع کسی ایسی بات پر ہو جو بظاھر مناسب نہیں لگتی ہو تو کیا اس بات کا ماننا ضروری ہے؟

عورت پر مسجد میں جا کر نماز پڑھنا کیوں فرض نہیں اور آدمی پر کیوں ضروری ہے وضاحت فرمائيے؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ اگر امت کا اجماع کسی ایسی بات پر ہو جو بظاہر مناسب نہیں لگتی تو کیا اس کو ماننا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ عورت پر مسجد میں جا کر نماز پڑھنا کیوں ضروری نہیں ہے۔

عرض یہ ہے کہ اجماع کی بہت ساری قسمیں ہیں۔ لیکن سوال کے ضمن میں دو باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اجماع کی ایک صورت تو یہ ہے کہ امت کسی دینی عمل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنے میں متفق ہو۔ جیسے نماز وغیرہ یہ اجماع واجب الایمان بھی ہے اور واجب العمل بھی۔ یعنی یہ ماننا بھی لازم ہے کہ یہ ہمارا دین ہے اور اسے اختیار کرنا بھی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ نصوص یا سنت کے فہم واطلاق میں امت کسی رائے پر متفق ہو گئی ہو۔ اول تو اس کی مثال کوئی نہیں ہے لیکن جن امور سے متعلق یہ دعوی کیا جاتا ہے ان میں بربنائے دلیل اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ محض یہ بات کہ وہ بات معقول نہیں لگتی کسی رائے کو چھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ کسی نص یا فقہی اطلاق کے غلط ہونے کے وہی دلائل اس معاملے میں قابل قبول ہیں جو امت میں نقلی علوم کے حوالے سے قابل قبول مانے گئے ہیں۔

عورت کو مسجد کی حاضری سے مستثنی رکھنے کی وجہ عورت کا عورت ہونا ہے۔ البتہ اس کو اجازت ہے کہ وہ مسجد میں جا کر نماز پڑھ سکتی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author