عورت کا نماز کا لباس

سوال:

میری بیوی اس خیال کے تحت کہ نماز کے لیے بازو کہنی تک ڈھانپنا کافی ہے، نماز پڑھتی رہی ہے۔ اسے کسی نے بتایا ہے کہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز میں کلائیاں بھی ڈھانپے۔ مجھے ان دونوں آرا کا استدلال معلوم نہیں ہے۔ ازراہِ کرم رہنمائی فرمائیے؟


جواب:

فقہا کے نزدیک بحث کا انحصار ستر کے تعین پر ہے۔ نماز میں نمازی کے لیے ستر ڈھانپنا واجب ہے۔ عورت اور مرد کے ستر میں فرق ہے۔ عام طور پر فقہا کے نزدیک عورت کا ستر ہاتھ اور چہرہ چھوڑ کر باقی سارا جسم ہے۔وہ قرآن مجید کی آیت 'وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ' (عورتیں اپنی زینتیں ظاہر نہ کریں سوائے ان کے جو آپ سے آپ ظاہر ہوں) سے استدلال کرتے ہیں۔ 'اِلَّا مَا ظَهَرَ' کا اطلاق ان کے نزدیک ہاتھوں اور چہرے پر ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

خُذُوْا زِيْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ.(الاعراف7: 31)

''ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے لباس پہنو۔''

مولانا امین احسن اصلاحی نے ''تدبر قرآن'' میں اس ارشاد کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' 'خُذُوْا زِيْنَتَکُمْ' میں زینت سے مراد لباس فاخرہ نہیں،بلکہ مجرد لباس ہے۔ لباس کو زینت کے لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہاں یہ ہے کہ طواف میں عریانی اختیار کرنے کا فلسفہ یہی تراشا گیا تھا کہ لباس زیب وزینت میں داخل ہے اور زیب وزینت اس عبادت کے شایان شان نہیں ہے۔ حج اور احرام میں فی الجملہ زہد ودرویشی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد ہی سے چلی آرہی ہے اور یہ حج کی خصوصیات میں سے ہے ، لیکن عربوں نے دور جاہلیت میں جہاں اور بہت سی بدعات ایجاد کیں ، وہیں یہ بدعت بھی ایجاد کر ڈالی کہ احرام کی سادگی اور درویشی کو عورتوں اور مردوں سب کے لیے عریانی کے حد تک پہنچا دیا۔ قرآن نے یہ اسی بدعت کی اصلاح کی۔ فرمایا کہ یہ عریانی بے حیائی ہے۔ اپنے لباس ہر مسجد کی حاضری کے وقت پہنو۔ جس طرح کوئی مسجد غیراللہ کے لیے نہیں ہو سکتی ، اسی طرح کوئی مسجد ایسی نہیں ہو سکتی جس کی حاضری کے لیے یہ شرط ٹھہرا لی جائے کہ آدمی وہاں کپڑے اتار کر حاضر ہو۔'کُلِّ مَسْجِدٍ' فرما کر اس حکم کو عام کر دیا کہ حرم اور غیر حرم کی تخصیص نہ رہ جائے۔ یہ اس جوگ اور رہبانیت کی کلی نفی ہے جو عریانی کو تقرب الٰہی اور وصول الی اللہ کا ذریعہ ٹھہراتی ہے۔ '' (3/251)

اس ہدایت سے معلوم ہوا کہ نماز میں لباس پہنا جائے گا۔ برہنہ نماز ادا کرنا درست نہیں ہے ، لیکن اس سے ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ یہ لباس کم از کم کتنا ہو۔ البتہ روایات میں اس سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ مردوں کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

عن ابي هريرة ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال:لا يصلي احدکم في الثوب الواحد ليس على عاتقيه منه شيء.(مسلم، رقم 2995)

''حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیز نہ ہو۔''

عورتوں کے ضمن میں آپ نے فرمایا:

عن عائشة عن النبي صلی الله عليه وسلم انه قال: لا يقبل الله صلٰوة حائض الا بخمار. (ابوداؤد، رقم516)

''حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دوپٹے کے بغیر بالغ عورت کی نماز قبول نہیں کرتے۔''

اسی طرح آپ کا ارشاد ہے:

عن ام سلمة انها سألت النبي صلی الله عليه وسلم أتصلي المرأة في درع وخمار ليس عليها إزار؟ قال: إذا کان الدرع سابغًا يغطی ظهور قدميها. (ابوداؤد، رقم640)

''حضرت ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت قمیص اور دوپٹے کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: صرف اس صورت میں جب لمبی قمیص نے پاؤں کی پشت کو ڈھانپا ہوا ہو۔''

ان روایات سے وہ کم از کم اہتمام معلوم ہوتا ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ استاد محترم نے ان ساری تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے نماز کے آداب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

''شایستہ اور مناسب لباس پہن کر نماز پڑھے۔'' (میزان 326)

اس تفصیل سے واضح ہے کہ آپ کی اہلیہ کی نماز کے ادا ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے فقہا کا رجحان یہ ہے کہ جس لباس اور جس اخفاے زینت کا تقاضا اللہ تعالیٰ نے مردوں کے سامنے آنے پر کیا ہے، وہی اہتمام نماز میں بھی ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے،یہ بات لازم تو نہیں کی جا سکتی، لیکن اگر اس کا اہتمام کیا جائے تو یقینا پسندیدہ ہو گا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author