عورتوں اور مردوں کے ملنے کے آداب

سوال:

غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ سورہ نور میں عورتوں اور مردوں کے ملنے کے آداب بیان کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عورتوں کی محفل ہو تو کیا وہاں ان احکامات پر عمل ضروری نہیں۔ کیا شریعت عورتوں کے ملنے پر کسی ادب کی تلقین نہیں کرتی؟


جواب:

قرآن مجید کے احکام کم سمجھنے کے لیے اس نقطے کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ دین کی آخری کتاب ہے۔ آخری کتاب کا لفظ نیا نہیں ہے۔ یہ لفظ ہمارے ہاں بہت لکھا اور بولا جاتا ہے اور اس سے ہماری مراد بالعموم یہ ہوتی ہے کہ اب اس کتاب کے بعد آسمان سے کوئی اور کتاب نہیں آنی ہے اور قیامت تک کے لیے یہی اب کتاب ہدایت ہے۔ استاد محترم نے جب یہ بات اپنی کتاب میں لکھی تو اس سے انھوں نے یہ بات واضح کی کہ اسے ملت ابراہیمی کی روایت میں رکھ کر پڑھا جائے گا۔ اسی طرح انھوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ بہت سے امور انسانی فطرت میں ودیعت کیے گئے ہیں اور ان فطری امور کے معاملے میں قرآن بلکہ وحی وہیں رہنمائی کرتی ہے جہاں انسان غلطی کر سکتا ہے۔

چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ستر یعنی کم ازکم کتنا جسم مردوعورت ہر ایک کے سامنے لازما ڈھکا رہنا چاہیے اصلا قرآن وحدیث میں زیر بحث نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ فطرت اور دین ابراہیمی کی روایت کی روشنی میں اہل عرب اور یہود ونصاری بالکل صحیح جگہ پر کھڑے تھے۔ قرآن مجید نے اس سے آ‏‏گے کے احکام دے کر اس کی تصویب بھی کر دی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس کے معاملے میں کوئی غلطی ہوتی تو قرآن مجید لازما اس کی اصلاح کر دیتا۔

چنانچہ مردوں کا مردوں کے سامنے برہنگی اختیار کرنا اور عورتوں کا عورتوں کے سامنے برہنگی اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ مردوں کا مردوں سے بے حیائی کی باتیں کرنا اور عورتوں کا عورتوں سے بے حیائی کی باتیں کرنا جائز نہیں ہے۔ عورتوں کا سر کو معمول میں ڈھانک کر رکھنا وغیرہ وہ امور ہیں جو پیغمبروں کی رائج کردہ معاشرت کے مسلمات ہیں۔

رہا آپ کا سوال تو اس کا ایک پہلو سے جواب اس تفصیل میں آگیا ہے۔ لیکن خود سورہ نور کے احکام میں بھی اس کا اشارہ موجود ہے۔ انھی احکام میں عورتوں کو اظہار زینت سے روکا گیا ہے۔ اور اس حوالے سے ایک محدود دائرے کا استثنا بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس استثنا میں میل جول کی عورتیں بھی شامل ہیں۔ اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے استاد محترم نے لکھا ہے:

" اپنے میل جول اور تعلق وخدمت کی عورتیں

اس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور ان کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے صنفی جذبات بھی بعض عورتوں سے متعلق ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے محاسن سے متاثر ہو کر وہ مردوں کو ان کی طرف اور ان کو مردوں کی طرف مائل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ " (میزان، ص 466)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author