آيت ” وما ملکت يمينک مما افاء اللہ عليک” ميں “ما ملکت يمينک” کا مصداق

سوال:

" وما ملکت يمينک مما افاء اللہ عليک" (الاحزاب33:50)۔ آيت ميں آزاد عورتوں کے آپ کے ملک ميں آنے کا ذکر ہے يا پھر پہلے سے غلام عورتوں کے آپ کي ملکيت ميں آنے کا بيان ہے؟


جواب:

مولانا امين احسن صاحب اصلاحي نے اس آيت کي شرح ميں لکھا ہے:

" وما ملکت يمينک مما افاء اللہ عليک" يعني غنيمت کي راہ سے آپ کو جو ملک يمين حاصل ہوں ان کو بھي اللہ نے آپ کے ليے جائز کيا۔ يہاں " وما ملکت يمينک" کے بعد " مما افاء اللہ عليک" کے الفاظ خاص طور پر نگاہ ميں رکھنے کے ہيں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ يہاں عام لونڈياں مراد نہيں ہيں ، بلکہ جنگ و جہاد ميں جو عورتيں قيد ہو کر آئيں وہ مراد ہيں۔ ان اسيرات ميں بسا اوقات شريف خاندانوں اور سرداروں کي بہوئيں اور بيٹياں بھي ہوتي تھيں۔ ان کے ساتھ في الجملہ امتيازي سلوک کي روايت زمانۂ جاہليت ميں بھي تھي اور اسلام نے بھي اس کو باقي رکھا۔ چنانچہ اس طرح کي عورتيں تقسيم کے وقت بالعموم سرداروں ہي کو دي جاتي تھيں۔ حضرت جويريہ اور حضرت صفيہ اسي طريقہ سے علي الترتيب غزوۂ بني مصطلق اور غزوۂ خيبر کے موقع پر حضور کے حصہ ميں آئيں۔ آپ ان کو لونڈيوں کي حيثيت سے بھي رکھ سکتے تھے ليکن آپ نے ان کي خانداني وجاہت کا لحاظ فرمايا اور آزاد کر کے ان سے نکاح کر ليا۔ يہ نکاح آپ نے اسي اجازت خاص کے تحت کيے جو اس آيت ميں آپ کو دي گئي۔ اگر يہ اجازت آپ کو حاصل نہ ہوتي تو آپ ان دونوں سيدات کو لونڈيوں کي حيثيت سے تو رکھ سکتے تھے ليکن بيويوں کي حيثيت سے نہيں رکھ سکتے تھے۔ اس ليے کہ اس صورت ميں ازاوج کي تعداد اسلام کے عام ضابطہ سے متجاوز ہوجاتي- ظاہر ہے يہ ايک قسم کي تنگي ہوتي جو آپ کے منصب کے اعتبار سے بعض اخلاقي اور سياسي مصالح ميں مخل ہوتي۔ اس وجہ سے اللہ تعالي نے آپ کو اس طرح کي عورتوں سے نکاح کي اجازت دے دي۔ يہ دونوں نکاح بالترتيب 5 اور 7 ہجري ميں ہوئے۔ اس طرح 7 ہجري ميں آپ کي ازواج کي تعداد سات ہو گئي۔" (تدبر قرآن ، ج6 ، ص254)

تدبر قرآن کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ اس سے آزاد عورتيں مراد ہيں جو جنگ ميں قيدي بن کر فاتح فوج کے قبضے ميں آتي ہيں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author