عذاب قبر كا ثبوت

سوال:

کیا قرآن مجید میں عذاب قبر کا کوئی ثبوت موجود ہے؟


جواب:

قرآن مجید کی درج ذیل آیات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے براہ راست مخاطبین کے لیے قبر، یعنی عالم برزخ کا عذاب بر حق ہے:

''اور فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا، آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی، حکم ہو گا: فرعون والوں کو بدترین عذاب میں داخل کرو۔'' المومن٤٠:٤٥- ٤٦

یعنی قیامت سے پہلے اس وقت وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

''تم ان (منافقوں) کو نہیں جانتے ، ہم انھیں جانتے ہیں۔ ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ پھر یہ عذاب عظیم کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔'' (التوبہ٩: ١٠١)

یعنی ایک مرتبہ دنیا میں اور دوسری مرتبہ عالم برزخ میں اور پھر اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم۔

چنانچہ ان دونوں آیات سے یہ پتا چلتا ہے کہ رسولوں کے مخاطبین اگر ان کی تکذیب کر دیں تو وہ قیامت سے پہلے عالم برزخ میں بھی عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں۔احادیث میں اسی عذاب کو عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author