اذان و اقامت سے پہلے درود اور نماز کے بعد ذکر

سوال:

میں اندرونِ سندھ میں رہتا ہوں ، جہاں لوگ اسلام کے بارے میں بہت کم جانتے اور بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ آج سے تقریباً 20 ، 30 سال پہلے میرے والد نے ہمارے پڑ وس میں ایک مسجد بنائی تھی۔ہم سالوں سے وہاں نماز پڑ ھ رہے تھے ، آج تک کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ جس طریقے سے نماز کے معاملات انجام دیے جاتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے ۔لیکن چند سال پہلے ہماری مسجد میں کچھ نئے لوگ آئے اور اُنہوں نے ہمیں نماز اور دیگر معاملات کی ادائیگی کے کچھ نئے طریقے سکھائے ، جس میں اذان و اقامت سے پہلے درود و سلام پڑ ھنا اور فرض نمازوں کے بعد بآوازِ بلند ذکر کرنا وغیرہ شامل ہے۔ اِن کا کہنا یہ تھا کہ یہ وہ اصل طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ کے رسول کے دور میں اذان و اقامت کہی جاتی، نمازیں پڑ ھی جاتیں اور فرض نمازوں کے بعد ذکر کیا جاتا تھا۔ اِن باتوں کی وجہ سے مسجد میں آنے والے لوگوں کے درمیان بہت سے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ، نمازیوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور مسلسل مزید کمی ہوتی جا رہی ہے ۔سوال یہ ہے کہ اِن معاملات میں صحیح اور مستند طریقہ کیا ہے اور کیا ہم یہ سارے نئے کام کر سکتے ہیں جو ہمیں سکھائے گئے ہیں؟


جواب:

نماز اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت میں بھی کسی قسم کے اضافے ، تبدیلی اور ترمیم کی گنجایش نہیں ، چاہے وہ اضافہ کتنا ہی اچھا اور خوشنما نظر آئے ۔جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے یعنی درود اور ذکر وغیرہ وہ اپنی ذات میں بہت اعلیٰ چیزیں ہیں ، مگر انہیں نماز کا حصہ بنانا ، نماز سے آگے پیچھے ان کا اہتمام کرنا ، اس کی دین میں کوئی گنجایش نہیں ۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں ان کے پاس کوئی سند نہیں ۔ نماز میں درود ، انفرادی طور پراور خاموشی کے ساتھ قعدہ کی دعاؤں میں پڑ ھا جاتا ہے ۔یہی حضور کا سکھایا ہوا طریقہ ہے ۔نماز کے بعد بعض اذکار کا احادیث میں تذکرہ ملتا ہے ، مگر یہ انفرادی اذکار ہیں جو خاموشی کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ فرض نمازوں کے بعد اجتماعی طور پر بلند آواز سے ذکر کا کوئی تذکرہ کسی صحیح روایت میں نہیں ملتا۔ صحیح احادیث میں نہ ایسے اعمال کا کا ذکر ہے اور نہ دنیا بھر میں مسلمان ایسے نماز پڑ ھتے ہیں ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے وہ اپنا ثبوت پیش کریں ۔کچھ لوگوں کے کہہ دینے سے کوئی چیز دین نہیں بن جاتی ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author