ازواج اور اولاد کا دشمن ہونا

سوال:

قرآن مجید میں یہ کہا گیا ہے کہ تمھاری بیویوں اور تمھارے بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں،اس بات کا کیا مطلب ہے؟


جواب:

قرآن مجید میں یہ بات ان الفاظ میں کہی گئی ہے:

ایمان والو، تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں سے بعض تمھارے لیے دشمن ہیں تو ان سے بچ کر رہو۔ اور اگر تم انھیں معاف کرو گے اور درگذر کرو گے اور بخشو گے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھارے لیے امتحان ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن٦٤:١٤-١٥)

پہلی بات یہ ہے کہ ان آیات میں ازواج اور اولاد کے لیے دشمن کا لفظ حقیقی معنوں میں نہیں، بلکہ نتیجے کے حوالے سے بولا گیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ان میں دراصل، انسان کو اس بڑی آزمایش سے متنبہ فرمایا گیا ہے کہ بعض اوقات خود اس کے بیوی اور بچے اسے خدا کے حقوق کی ادائیگی سے روکنے والے بن جاتے ہیں، خواہ وہ یہ کام خیر خواہانہ ذہن سے کر رہے ہوں یا آدمی خودان کی محبت میں خدا سے غافل ہو رہا ہو، بہرحال دونوں صورتوں میں چونکہ اِس کا نتیجہ اُس کے لیے ہلاکت خیز ہوتا ہے، اس لیے ان کو دشمن کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ انسان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان کی محبت میں گرفتار ہو کر خدا کے حقوق ہی سے غافل ہوجانے سے ضرور بچ کر رہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author