با جماعت نماز میں غفلت

سوال:

باجماعت نماز،بلا شبہ افضل نماز ہے، لیکن بعض اوقات دل افسردہ ہوتا ہے۔ کبھی شدید گرمی یا سردی، کبھی کیبل پر کوئی سنسنی خیز پروگرام دیکھ رہا ہوتا ہوں ، کبھی مہمانوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہوتا ہوں تو اس قسم کے حالات میں مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بجاے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔ کیا ایسی نماز کا وبال ہوتا ہے؟ کیا ایسی نماز قبول نہیں ہوتی؟ قرآن میں ارشاد ہے: ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔


جواب:

باجماعت نماز اور مسجد کی حاضری نماز کے اجر کو بڑھانے والی چیز ہیں۔ اس میں کوتاہی نماز کے اجر کو کم کرنے والی چیز ہے۔ جس طرح کی مصروفیات آپ کو نماز باجماعت سے محروم کر دیتی ہیں،انہی سے پیچھا چھڑا کر جماعت میں شریک ہونا وہ مجاہدہ ہے جو ازدیادِ اجر کا باعث ہے، اس لیے کوشش یہی کرنی چاہیے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انفرادی نماز قبول نہیں ہوتی۔ البتہ آدمی اجر کے ایک بڑے حصے سے محروم ضرور ہو جاتا ہے۔ نماز سے وہ غفلت جو وبال کا باعث بنے گی یا نماز کی عدم قبولیت کی وجہ بن سکتی ہے، وہ نماز کو بے وقت پڑھنا ہے۔ سورۂ ماعون میں یہی غفلت مراد ہے، یعنی نماز میں اہتمام اور خوبی کے پہلو کا نہ ہونا اور ان اخلاق کی عدم موجودگی جو ایک نمازی میں ہونے چاہییں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author