باجماعت نماز میں شامل ہونا

سوال:

میرے دو سوالات ہیں۔

1۔ باجماعت نماز میں کس وقت تک شامل ہو کر رکعت حاصل کر سکتے ہیں؟فاتحہ کی تلاوت کے دوران یا قرآن کے دیگر حصہ کے دوران شامل ہونا ضروری ہے یا رکوع میں بھی شامل ہونے سے رکعت مل سکتی ہے؟

2۔ با جماعت نماز میں مقتدیوں کے لئے فاتحہ اور قرآن کی تلاوت کرنا کب ضروری ہے اور کب نہیں؟


جواب:

آپ سوالات کے جوابات حاضر ہیں۔

1۔ بعد میں آنے والے کیہر وہ رکعت پوری تصور ہو گی جس میں اس کا قیام ممکن ہوا ہو۔قیام کی مدت کا تھوڑا یا زیادہ ہونا اس پر اثر نہیں رکھتا۔ مثلا اگر امام رکوع میں چلا بھی جائے تو ہم چند لمحوں کے لئے قیام میں رہتے اور پھر رکوع میں جاتے ہیں تو وہ رکعت مکمل شمار ہو گی۔

2۔جب ہم امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں تو اس کی قیادت میں ہونے کی وجہ سے ہم سورہ فاتحہ اور قرآن کے کسی اور حصہ کی تلاوت نہیں کرتے۔البتہ ہم چاہیں تو ان رکعات میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کر سکتے ہیں جو امام جہرا یعنی بلند آواز سے تلاوت نہیں کرتا۔یہ جاننا ضروری ہے کہ کچھ فقہی مذاہب کے حاملین فاتحہ کی تلاوت ہر صورت میں کرتے ہیں۔ ہم اسے مناسب نہیں سمجھتے۔ البتہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ ان کا فاتحہ کی تلاوت کرنا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ یہ فقہی اختلاف ہے اور شریعت میں اس بات کے متعلق حتمی حکم نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس طرح کا حکم نہیں لگا سکتے۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author