با وضو شخص کا دوبارہ وضو کرنا اور اس کی دینی حیثیت

سوال:

میں ایک سوال عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر انسان کا وضو قائم ہو اور وہ نماز کے لیے دوبارہ وضو کر لے تو کیا یہ بدعت ہو گی؟ برائے مہربانی تاریخ کا کوئی حوالہ دیں؟


جواب:

آدمی اگر چاہے تو بلا شبہ ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں ادا کرسکتا ہے۔ تاہم روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ یہ تھا کہ بالعموم آپ ہر فرض نماز کے موقع پر نیا وضو کیا کرتے تھے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک باوضو شخص کے لیے تجدیدِ وضو کو بشمول ائمۂ اربعہ کے اکثر فقہا نے بعض شرائط کے ساتھ ایک پسندیدہ اور مستحب عمل قرار دیا ہے۔

اِمام احمد بن حنبل سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ تجدیدِ وضو کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ لیکن علماے حنابلہ، امام احمد کی اُسی روایت کو زیادہ مستند قرار دیتے ہیں جو جمہور کے موافق ہے۔

دین میں اِس عمل کے استحباب کے لیے فقہا نے جو بعض شرائط بیان کی ہیں اُن کے حوالے سے اِن کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ علماے شافعیہ کے نزدیک وضو پر نیا وضو کرنا اِس شرط کے ساتھ پسندیدہ ہے کہ پہلے وضو سے آدمی نے کم از کم دو رکعت نماز، خواہ نفل ہو یا فرض، پڑھی ہو۔

احناف نے یہ شرط عائد کی ہے کہ پہلے اور دوسرے وضو کے مابین ایک نشست یا ایک نماز ضرور ہونی چاہیے، اگر ایسا نہیں ہے تو اُس صورت میں نیا وضو کرنا نا پسندیدہ اور مکروہ ہے۔

مالکیہ کا کہنا ہے کہ دونوں کے مابین کسی ایسی عبادت کا ہونا ضروری جس کی صحت کے لیے وضو کا ہونا شرط ہے۔ جیسے نماز، طواف بیت اللہ یا مصحف قرآنی سے تلاوت کرنا وغیرہ۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وضو کرنے کے بعد اگر آدمی نے ابھی تک کوئی نماز نہیں پڑھی ہے تو اِس صورت میں اُس کے لیے نیا وضو کرنا، نہ صرف یہ کہ کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ اور عہد نبوی سے آج تک کے مسلمانوں کے عمومی طریقۂ عمل سے مخالف ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا 'بدعت' ہے۔ (مجموع الفتاوی 376/21(

غرضیکہ فقہا کے نزدیک بغیر کسی سبب کے وضو پر وضو کرنا دین میں علی الاطلاق کوئی مندوب اور مشروع عمل نہیں ہے۔

ہر نماز کے موقع پر نیا وضو کرنے کے استحباب پر اہل علم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی مندرجہ ذیل بعض احادیث سے استدلال کیا ہے:

1۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے موقع پر(نیا) وضو کیا کرتے تھے۔ میں (عمرو بن عامر) نے کہا: اِس معاملے میں آپ (صحابہ) کا کیا طریقہ تھا ؟ اِس پر حضرت انس نے فرمایا: ہمارا معاملہ تو یہ تھا کہ ہم میں سے کسی شخص کا جب تک وضو ٹوٹ نہ جاتا، اُسے ایک ہی وضو کفایت کرتا تھا۔ سنن ترمذی کے الفاظ ہیں کہ:

جب تک ہمارا وضو نہ ٹوٹتا، ہم تمام نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری، رقم214۔ البانی،صحیح الترمذی،رقم60(

2۔ حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہر نماز کے لیے(نیا) وضو کیا کرتے تھے، لیکن (ہم نے دیکھا کہ) فتح مکہ کے موقع پر آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا۔ اِس پر سیدنا عمر نے آپ سے عرض کیا: آج آپ نے وہ کام کیا ہے جو آپ کبھی نہیں کیا کرتے تھے!۔ اس پر آپ نے فرمایا: اے عمر ! میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔(البانی،صحیح النسائی،رقم 133۔ صحیح الترمذی، رقم 61۔ دارمی، رقم 659(

3۔ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کو تکلیف اور مشقت میں ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اُنہیں ہر نماز کے موقع پر وضو اور ہر وضو کے موقع پر دانتوں کی صفائی کا ضرور حکم دیتا۔ اور نمازِ عشا کو میں آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔ (طیالسی، رقم 2448(

پھر اِس باب میں مندرجہ ذیل بعض فضائل کی ایسی روایات بھی موجود ہیں جن کی نسبت علماے حدیث کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قطعاً ثابت نہیں ہے۔ چنانچہ آپ کی نسبت سے اِن کو بیان کیا جاسکتا ہے، نہ اِن سے کوئی دینی حکم ہی ثابت ہوتا ہے۔ وہ روایات یہ ہیں:

1۔ جس نے پاکیزگی کی حالت میں وضو کیا، اللہ تعالیٰ اُس کے لیے دس نیکیاں لکھتے ہیں۔ یہ ایک ضعیف روایت ہے۔ (البانی، ضعیف ابی داود، رقم 62۔ البانی، ضعیف ترمذی، رقم 59(۔

2۔ وضو پر وضو کرنا (گویا) روشنی پر روشنی ہے۔ یہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد روایت ہے۔ (ملا علی قاری، الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعۃ، رقم 361۔ البانی، ضعیف الترغیب والترھیب، رقم 140(

answered by: Muhammad Amir Gazdar

About the Author

Muhammad Amir Gazdar


Dr Muhammad Amir Gazdar was born on 26th May 1974 in Karachi, Pakistan. Besides his studies at school, he learned the science of Tajweed Al-Qur’an from a renowned Qu’anic reciter, Qari Khalil Ahmad Bandhani and completed the memorization of the Qur’an in 1987 at Madrasah Tajweed al-Qur’an, Karachi.

He obtained his elementary religious education from Jami’ah Dar al-Hanafiyyah, Karachi. He graduated from Jami’ah al-Uloom al-Islamiyyah, Binnori Town, Karachi and obtained Shahadah Aalamiyyah in 1996 and received an equivalent certificate of Masters in Islamic Studies from the Karachi University.

During the year 1997 and 1998, he served in Jami’ah Binnori Town as a Tafseer and Tajweed teacher and also taught at Danish Sara Karachi (A Former Dawah Centre of Al-Mawrid Foundation).
In 1992, Dr Gazdar was introduced to Farahi school of thought when first time met with Ustaz Javed Ahmad Ghamidi (a renowned Islamic scholar) and had the chance to learn Islam from him and tried to solve many controversial issues of Hadith, Fiqh and Usool under his supervision.

In January 1999, he started another Masters programme in Islamic Sciences offered by Al-Mawrid foundation in Lahore and he completed it with top position in the batch in August 2001.
Mr Gazdar officially joined Al-Mawrid foundation as an associate fellow in research and education in 2002 and worked in this capacity until December 2018. He worked for the Karachi center of Al-Mawrid for about 10 years as a teacher, lecturer and researcher. He taught various courses, delivered weekly lectures, conducted workshops on different topics, taught in online classes, answered questions of the participants verbally and wrote many answers for foundation’s official website too.

In September 2012, he moved to Kuala Lumpur Malaysia to participate in another Masters programme in Islamic Revealed Knowledge and Heritage at International Islamic University Malaysia (IIUM). In January 2015, he completed his 3rd Masters in Qur’an and Sunnah department of the university with the GPA: 3.92.

Dr Amir started his Ph.D programme in the Qur’an and Sunnah department of International Islamic University Malaysia (IIUM) in February 2015 and completed it with distinction on 25th March 2019. His Ph.D research topic was a comparative study of contemporary scholars’ view on the issue of Hijab and Gender Interaction in the light of Quranic and Hadith texts.

In December 2018, he has been appointed at Al-Mawrid Foundation as Fellow of research and education.

Dr Gazdar has many academic works to his credit. He has written a few booklets published in Urdu language and has authored several articles which have been published in various research journals in Malaysia, India and Pakistan (Arabic language). His two research books have been in Malaysia and Lebanon in 2019 (Arabic language).

Furthermore, he is actively working in the Hadith project of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and playing a significant role in it as a researcher and writer since January 2016.

Moreover, Dr Gazdar has been leading in Qiyam-e-Ramadhan and Tarawih prayer since 1989 in various mosques and at Sada Bahar Lawn (2002-2011) in Karachi, Pakistan. He worked as a part time Imam at Sultan Haji Ahmad Shah mosque of International Islamic University Malaysia (IIUM) from 2013 to 2016 where he lead in Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan for four years. Other than this, he has served for several mosques in Kuala Lumpur as a volunteer Imam for Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan.

Answered by this author