بچوں کی تربیت

سوال:

بچوں کی تربیت کے حوالے سے میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ پہلے بچوں کو انسانیت کے اہم اور بنیادی ضوابط سکھائے جائیں۔ جیسے سچ بولنا اور احترام وغیرہ تمام اخلاقیات۔ پھر جب وہ بڑے ہو رہے ہوں تو انھیں یہ بتایا جائے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں ، تم ان میں سے کوئی بھی مذہب چن سکتے ہو ، مگر میں تمھاری ماں ایک مسلمان ہوں۔ میں نے تحقیق سے ان اسباب کے تحت اس دین کو چنا ہے۔
موجودہ حالات میں ہم مسلمان پیدا کر رہے ہیں، لیکن بچپن ہی میں ان کی برین واشنگ کر دیتے ہیں۔ وہ اسی کو سچ مانتے ہیں جس کے بارے میں ہم انھیں بتا دیتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ میں وہ مسلمان بنانا چاہتی ہوں جو اسلام کی صحیح روح سے آگاہ ہوں۔ پیدایشی طور پر نہیں ، بلکہ غوروفکر کے نتیجے میں۔ وہ اللہ تعالیٰ کواور اسلام کی سچائی کو اپنی تحقیق سے دریافت کریں۔ وہ ایسے روایتی مسلمان نہ ہوں جن کی برین واشنگ ہو چکی ہوتی ہے؟


جواب:

آپ کا جذبہ بہت اعلیٰ ہے۔ اس ہدف کے درست ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان کا ایمان اس کی اپنی دریافت ہو۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ کسی مسلمان کو اندھا مقلد اور اپنے افکار پر جامد نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سوچ اتنی اچھی ہے کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ، لیکن میرے خیال میں بچوں کے حوالے سے آپ کی بات میں کچھ تبدیلیاں ضروری ہیں۔ بچے ہمارے بتانے سے کم اور ہمارے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ لہٰذا بنیادی اصول تو یہ ہے کہ جو آپ اپنے بچوں کو بنانا چاہتی ہیں، وہ خود بنیں۔ اگر بچے آپ کو دیکھیں گے کہ آپ باتیں تو آزادی فکر کی کرتی ہیں ، لیکن خود اس پر عامل نہیں ہیں تو آپ کی باتیں تاثیر سے محروم رہیں گی۔


دوسرا انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ تمام بچے یکساں فکری صلاحیت نہیں رکھتے۔ لہٰذا بچوں کی تربیت اور اٹھان میں ان کی صلاحیت اور طبعی رجحانات کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ممکن ہے آپ کے سارے بچے آپ کی فکری نہج کو اپنا لیں ، لیکن یہ صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے جب آپ یہ دیکھیں کہ وہ اس کے لیے مناسب اہلیت رکھتے ہیں۔


تیسری بات یہ ہے اور اسے بھی ایک اصول ہی کی حیثیت حاصل ہے کہ انسانی نفسیات خلا میں نہیں جیتی۔ انسانی طبیعت کچھ تصورات اور شخصیات کے ساتھ وابستگی ہی سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ اگر آپ اس کی رعایت نہیں کریں گی اور بچوں کو شروع ہی میں ان کی ہمت سے باہر کے دائرے میں رد و قبول کی راہ دکھائیں گی تو وہ فکری انتشار اور عملی انحطاط کا شکار ہو جائیں گے۔


تعلیم کا اصول یہ ہے کہ بچوں کو نیچرل سائنسز ہوں یا انسان سے متعلق علوم ، اسی طرح سکھائی جاتی ہیں،جس طرح وہ ہر شک وشبے سے پاک ہوں۔پھر ان کی معلومات کے دائرے کو بڑھاتے بڑھاتے اس پوزیشن میں لے آتے ہیں کہ وہ دلائل کی کمزوری اور قوت کو سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر ان میں اہلیت ہو تو وہ خود دریافت کرنے یا ترجیح دینے کے عمل میں کارکردگی دکھانے لگ جاتے ہیں، ورنہ ان کا سفر معلوم کے معلوم ہونے تک محدود رہتا ہے۔


مذہب میں بھی یہی صورت ہوگی۔ بچوں کو آپ اپنے دینی خیالات اسی طرح سکھائیں گی ، جس طرح وہ ایک حقیقت ہیں۔ پھر انھیں مختلف افکارو نظریات سے آگاہی کا موقع ملے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ کو انھیں یہ سکھانا بھی ہے اور اس کا نمونہ بھی بننا ہے کہ ہر بات دلیل کی بنیاد پر مانی اور رد کی جاتی ہے۔


مذہب کے حوالے سے یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ مذہبی استدلال اور تجرباتی علوم کے استدلال میں فرق ہے۔ لہٰذا اس فرق کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے تو فکری نتائج بڑے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ نیچرل سائنسز کے غلبے کے اس زمانے میں بعض ذہین لوگ اسی فکری تضاد میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اور انھیں اس سے نکالنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ذہن کا خاصہ یہ ہے کہ اسے نئی بات میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ مذہب اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی باتوں کو ماننے کا نام ہے۔دین کی تعلیم کا کام کرنے والوں کو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے۔


بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو آئیڈیلائز کرتے ہیں۔ آپ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیے گا ، بلکہ اسی کو استعمال کرتے ہوئے ان کی تربیت کا کام کیجیے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author