بدكار سے شادی

سوال:

میں جس شخص سے شادی کی خواہشمند ہوں اسے میں دو سال سے جانتی ہوں۔ اس کے قريبی لوگوں اور دوستوں سے مجھے پتا چلا ہے اس شخص کا کردار ٹھیک نہیں ہے۔ جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے اعتراف بھی کیا کہ اس کے لڑکیوں کے ساتھ غلط تعلقات رہے ہیں۔ اس بات پہ میں نے شادی سے انکار کر دیا۔ پھر چھ ماہ بعد اس نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور وعدہ كيا کہ وہ اب کوئی غلط کام نہیں کرے گا۔ پھر ايك دن مجھے يہ حقيقت براہ راست معلوم ہوئی كہ وہ اب بھی لڑکيوں سے نا جائز تعلقات ركھتا ہے۔ جس دن سے مجھے يہ معلوم ہوا ہے ميں عجیب کشمکش کا شکار ہوں۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں۔ مجھے اس سے شادی کرنی چاہیے یا نہیں؟ میرے والدین کو اس کی یہ بری حرکتیں معلوم نہیں ہیں۔ وہ اسے اچھا انسان سمجھتے ہیں۔ سر مہربانی فرما کر مجھے بتائیے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گی۔جلدی جواب دیجیے گا کیوں کہ میری پوری زندگی کا انحصار اس جواب پر ہے۔


جواب:

ميرا مشورہ ہے كہ آپ کو اپنے والدین کو پوری بات بتادینی چاہیے اور اچھی طرح جائزہ لینا چاہیے کہ آپ اس آدمی کے ساتھ، اگر اس کا یہ رویہ شادی کے بعد بھی قائم رہتا ہے ، نباہ کر سکیں گی؟ اگر آپ اور آپ کے والدین یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ صورت حال ٹھیک ہو جائے گی اور اس ماضی کے باوجود آپ اس آدمی کے ساتھ اچھا وقت گزار لیں گی تو آپ کو شادی کر لینی چاہیے ۔ اگر آپ لوگوں کی رائے اس کے برعکس بنے تو نہیں کرنی چاہیے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ شادی موزوں نہیں ہے۔ لیکن فیصلہ بہرحال آپ کو کرنا ہے جو فیصلہ آپ اپنی آزاد رائے سے کریں گی وہی آپ کو اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں میں دینی نقطہ نظر بیان کردوں کہ دین میں نکاح کے لیے پاک دامنی ایک لازمی شر ط ہے۔ کسی پاک دامن کو کسی زانی سے شادی نہیں کرنی چاہیے۔ الا یہ کہ وہ اس کی توبہ کے بارے میں دل سے مطمئن ہو جائے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author