بیعت کا تصور

سوال:

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں بیعت کے تصور کا کیا مفہوم ہے؟ اگر میں کسی کے ہاتھ پر بیعت کروں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ اور بیعت کرنے کے بعد میں اگر اس بیعت کی شرائط پوری نہ کر سکوں تو اس کا کیا نقصان ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے بیعت کے تصور اور اس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوال کیا ہے۔

عرض ہے کہ بیعت کسی شخص کے ساتھ معصیت سے توبہ اور نیکی پر عمل کا معاہدہ ہے۔ یہ اس معاہدے کی اصل حقیقت ہے۔ لیکن پیری مریدی کے تعلق میں بات اس سے زیادہ ہے۔ یہ معاہدہ راہ طریقت میں پیر کی پیروی کا معاہدہ ہے۔یہ ایک عہد ہے اور عہد کی خلاف ورزی بالاتفاق گناہ کبیرہ ہے۔

لیکن ہمارے نزدیک صرف پیغمبر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس نوعیت کی بیعت لے۔ آپ اصلاح عقیدہ و عمل کے لیے کسی عالم کو جو صاحب عمل ہو اپنا استاد بنائیں اور اس سے اسی چیز کو دین کی حیثیت سے قبول کریں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author