بینک کا سود

سوال:

سود یا ربا جسے اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ آیا اس سے وہ 'interest' مراد ہے جو بینک رقوم جمع کرانے والوں کو ادا کرتا ہے یا اس سے وہ 'usuary' مراد ہے جسے سود مرکب یا حد سے زیادہ شرح والا سود کہا جاتا ہے۔ بینک جو سود ادا کرتا ہے ،وہ تو بہ مشکل 'inflation' کی اس اوسط شرح کے بقدر ہوتا ہے جس سے ہمارا روپیہ 'devalue' ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ،کیونکہ 'interest' کی وہ رقم بے شک گنتی میں نوٹوں کی تعداد تو بڑھا دیتی ہے، لیکن درحقیقت وہ ہمارے اصل اثاثے کو 'value' کے اعتبار سے برقرار رکھنے کے سوا ہمیں کوئی اور فائدہ نہیں دیتی۔ جبکہ سود مرکب اور زیادہ شرح والے سود کا معاملہ واقعۃً ایک ظلم ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک یہ اضافہ جو 'inflation' کی شرح کے بقدر ہوتا ہے اور جس سے دولت کی'value' میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، کیا وہ بھی حرام ہے؟


جواب:

بینک 'interest' دیتا بھی ہے اور لیتا بھی ہے۔ لینے والے 'interest' کی شرح دینے والے 'interest' کی شرح سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔بینک ان دونوں 'interests' کو ایک ہی شے قرار دیتا ہے۔حالانکہ ایک کی شرح تقریباً 'inflation' کی شرح کے بقدر ہوتی ہے ، لیکن دوسرے کی شرح 'inflation' کی شرح سے تین گنا یا چار گنا تک ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیا معمہ ہے؟ بینک اور بینک سے قرض لینے والا دونوں کے لیے 'inflation' کی شرح مختلف کیوں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ بینک جب کسی سے سود لیتا ہے تو وہ پورے شعور کے ساتھ اللہ کا حرام ٹھہرایا ہوا سودی اضافہ ہی لیتا ہے اور جب کسی کو سود دیتا ہے تو وہ اپنی طرف سے وہی اللہ کا حرام ٹھہرایا ہوا اضافہ ہی اس کو دیتا ہے۔
رہا یہ معاملہ کہ ہمارے ہاں بینک جو سود دیتا ہے، اس کی شرح، چونکہ 'inflation' کی شرح کے قریب ہوتی ہے، لہٰذا کیا وہ سود ہمارے لیے جائز نہیں ہے؟ تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اگر بینک اور کسٹمر ،دونوں کی نیت اور ارادہ واقعۃً جمع شدہ روپے کو 'inflation' سے پیدا ہونے والے نقصان سے بچانا ہے اور سال کے آخر پر باقاعدہ متعین ہونے والی 'inflation' کے حساب ہی سے رقم میں اضافہ کرنا ہے تو پھر اس میں یقینا کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ گویا آپ نے ڈالرز کی شکل میں جتنا قرض دیا تھا، بالکل اتنا ہی ڈالرز کی شکل میں واپس لے لیا۔ چنانچہ یہ بالکل جائز ہو گا۔
یہ ذہن میں رہے کہ سود تو ہر صورت میں حرام ہے، لیکن اگر کوئی شخص بینک سے حاصل ہونے والے اضافی روپے میں سے 'inflation' کے مطابق حساب لگاکر رقم رکھ لیتا اور باقی رقم کی ایک ایک پائی بینک کو واپس کر دیتا یا بغیر ثواب کی نیت کے غربا میں تقسیم کر دیتا ہے تو اس کی نیت چونکہ سود لینے کی نہیں، بلکہ محض 'inflation' کو 'cover' کرنے کی ہے،لہٰذا ایسا شخص بالکل صحیح ہو گا اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author