بینک کی ملازمت

سوال:

کیا بینک کی ملازمت جائز ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ بینک ایک سودی ادارہ ہے اور اس کی ملازمت صحیح نہیں ہے، لیکن اگر میں اس میں ٹریننگ منیجر یا ٹریننگ کرنے والے شخص کی حیثیت سے ملازمت کرتا ہوں تو کیا میری یہ ملازمت جائز ہو گی؟

کیا بینک کے لیے اس نوعیت کا کام کیا جا سکتا ہے کہ اس کے پاس ان لوگوں کو لایا جائے جو اپنی اشیا یا گھر وغیرہ رہن رکھ کر قرض لینا چاہتے ہوں، بینک اس طرح کا کام کرنے والے کو کمیشن دیتا ہے۔ چنانچہ کیا یہ کاروبار جائز ہو گا؟


جواب:

1- بینک ایک سودی ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ملازمین دراصل اس کے سودی نظام ہی کے ایجنٹ یا کارندے کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیتے اور اس کا معاوضہ لیتے ہیں۔ اسلام میں سود کھانا اور کھلانا صریحاً حرام ہے۔ چنانچہ سودی ادارے کی خدمات بھی ناجائز کام ہیں اور ان کا معاوضہ بھی حرام ہے۔
کسی بڑے عذر اور مجبوری کے تحت تو ایسا ہو سکتا ہے کہ آدمی کچھ دیر کے لیے بینک میں ملازمت کر لے، لیکن یہ ملازمت اصلاً جائز نہیں ہے۔

2- بینک کی ملازمت کرنا دراصل، ایک سودی ادارے کو اپنی خدمات پیش کرنا ہے۔ چنانچہ یہ انتہائی مجبوری کے سوا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے۔

3- اس کام میں آپ بینک کو سودی کاروبار مہیا کرکے اس سے اپنا معاوضہ لیں گے، یہ کام سود خوری میں بینک کی واضح معاونت ہے، لہٰذا یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author