بینک میں ملازمت

سوال:

کیا بینک کی ملازمت حرام ہے اگر چہ کوئی براہِ راست سودی معاملات کو ہینڈل نہ کر رہا ہو؟

میں آئی ٹی انچارج کے طور پر بینک میں جاب کرتا ہوں ، میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آیا یہ جاب حرام ہے یا حلال؟جو بھی صورت ہو، ا س کی کم از کم اتنی وضاحت کر دیں جو مجھے بھی مطمئن کر دے اور میں دوسروں بالخصوص اپنے والدین کو مطمئن کرسکوں ؟


جواب:

سود لینا ناجائز اور حرام ہےاور بینک سودی لین دین کا ادارہ ہے۔ تاہم دور جدید میں بینک کایہ ادارہ معیشت کے ہر شعبہ میں اس طرح متعلق ہو چکا ہے کہ ایک دن میں اس کا خاتمہ آسان نہیں ۔ ان حالات میں یہ کہنا کہ بینک کی ہر ملازمت قطعاً حرام ہے اور لوگ اسے فوراً چھوڑ دیں ، دین کی اپنی روشنی میں درست نہ ہو گا۔

بینک کی ملازمت بھی دو طرح کی ہے۔ ایک جس میں براہِ راست سودی معاملات میں تعاون کی وہ شکل ہوتی ہے کہ جسے حدیث میں 'موکل' یعنی سودی ایجنٹ کہا گیا ہے۔ جو لوگ ایسی ملازمتوں سے منسلک ہیں ، انھیں چاہیے کہ وہ جلد از جلد معاش کا کوئی متبادل تلاش کریں ۔ وہ اگر اپنے حالات کی بنا پر عزیمت کی یہ راہ اختیار نہ کر سکیں تو پروردگار کے حضور رجوع کر کے اپنا عذر اس کی کریم بارگاہ میں پیش کرتے رہیں ۔ ساتھ ہی اپنے مال میں سے کثرت کے ساتھ انفاق کریں ۔ امید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی بنا پر در گزر کا معاملہ فرمائے گا۔

دوسری ملازمت پبلک سروسز کی نوعیت کی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے بھی ذکر کیا ہے۔ ان کو کرنے میں اصلاً کوئی حرج نہیں ہے ۔جو لوگ ایسی ملازمتوں سے منسلک ہیں ، وہ اگر معاش کا کوئی دوسرا بہتر سلسلہ تلاش کر سکیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے حالات کی بنا پر ایسا نہیں کرتے تو ان شاء اللہ پروردگار کے حضور ان پر کوئی آنچ نہ آئے گی۔

البتہ جب کسی ریاست میں حکومت سودی لین دین کو ناجائز قرار دے دے تو ایسے میں سود کے کاروبار سے متعلق ہر ملازمت حرام اور ناجائز ہوجائے گی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author