بارانی اور نہری زمین کی شرح زکوٰۃ میں فرق کی وجہ

سوال:

بارانی زمین کی زکوٰۃ کی شرح دس فی صد اور نہری زمین کی پانچ فی صد کیوں ہے؟ جبکہ بارانی زمین پر فصل کم آتی ہے اور اگر کبھی بارش نہ ہو تو فصل آتی ہی نہیں اور نہری زمین پر سال میں تین تین فصلیں بھی آتی ہیں۔ نیز یہ بتائیے کہ حکومت کو جو مالیہ دینا پڑتا ہے، کیا وہ زکوٰۃ میں سے منہا کیا جائے گا، یعنی کیا اتنی زکوٰۃ کم دینا ہو گی؟


جواب:

بارانی زمین پر پانی وغیرہ کا کوئی خرچ نہیں ہوتا، چنانچہ اس پر زکوٰۃ کی شرح دس فی صد رکھی گئی ہے، کیونکہ اس کی فصل کم خرچ سے حاصل کی جاتی ہے۔ نہری زمین سے اگر فصلیں زیادہ حاصل ہوتی ہیں تو پانی وغیرہ کے اضافی اخراجات بھی بہت ہوتے ہیں، لہٰذا، اس پر زکوٰۃ کی شرح پانچ فی صد رکھی گئی ہے۔ نہری زمین سے اگر تین فصلیں حاصل ہوتی ہیں تو زکوٰۃ ان تینوں فصلوں پر لگتی ہے۔
البتہ، آج کل چونکہ بارانی اور نہری دونوں نوعیت کی زمینوں کی زراعت پر باقاعدہ کئی قسموں کے اخراجات ہوتے ہیں، لہٰذا، ہمارے نزدیک اب یہ یکساں نوعیت کی زمینیں شمار ہوں گی، چنانچہ اب زمین پر زکوٰۃ عشر نہیں نصف عشر ہی ہوگی۔
حکومت کو جو مالیہ وغیرہ دینا پڑتا ہے ، اتنی رقم زکوٰۃ میں سے منہا کر لی جائے گی۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author