بچوں کی خاطر جھوٹ میں کلمہ پڑھنا

سوال:

میں بریلوی مسلک سے تھا اور میری شادی بھی بریلوی مسلک کی لڑکی سے ہوئی۔ جب میں نے جاوید احمد صاحب غامدی کو سنا تو میں نے تمام شرکیہ باتوں سے توبہ کی۔ جب میری وائف کو پتہ چلا تو وہ مجھے اور بچوں کو چھوڑ کر اپنے امی ابو کے گھر چلی گئی اور مجھے کافر قرار دے دیا۔ واپسی کی شرط یہ تھی کہ دوبارہ بریلوی ہو جاؤں اور کلمہ پڑھ کر دوبارہ مسلمان ہو جا‏ؤں، پھر دوبارہ نکاح ہو گا۔ میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں، ان کی عمر 3، 4 اور 5 سال ہے۔ میں نے بچوں کی خاطر جھوٹ میں کلمہ پڑھ کر توبہ کی، دوبارہ نکاح کیا اور وائف کو یقین دلایا کہ اب میں بریلوی ہو چکا ہوں۔ جبکہ دل سے میں سچا مسلمان ہوں، پلیز مجھے گائیڈ کر دیں کہ میں نے غلط کیا یا صحیح کیا۔ دل میں ارادہ ہے کہ بچے جب سمجھدار ہو جائیں گے تب دوبارہ اعلان کروں گا۔


جواب:

آپ نے جو راستہ سمجھ میں آیا اختیار کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ آپ کو آئندہ آنے والی مشکلات سے محفوظ رکھے اور ایمان وعمل کی سلامتی اور ترقی سے بہرہ مند رکھے۔

آپ کی اہلیہ نے جو فیصلہ کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کی حقانیت کی قائل ہیں اور اس کے لیے قربانی بھی دے سکتی ہیں۔ یہ ایک بڑے کریکٹر کی نشانی ہے۔ اس سے مجھے یہ امید نظر آتی ہے کہ اگر آپ ان کی اس استقامت کو صرف حق پہچاننے اور حق کے ساتھ جڑنے سے وابستہ کر سکیں تو بہت اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author