بچوں كو مسنون دعائيں سكھانا

سوال:

ہمارے ہاں بچوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون دعائیں عربی زبان میں سکھائی جاتی ہیں۔ نبی کریم نے مختلف موقعوں پر جو دعائیں کی ہیں ، کیا وہ صرف ان خاص موقعوں کے لیے تھیں یا اب بھی خیر و برکت کے پہلو سے دہرائی جا سکتی ہیں اور کیا اس پہلو سے اپنے بچوں کو لازماً یاد کرائی جانی چاہییں؟


جواب:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب دعائیں ، بلاشبہ بہت پاکیزہ دعائیں ہیں ، لیکن یہ واضح رہے کہ یہ کوئی منتر نہیں ہیں ، بلکہ ان کی حیثیت بھی اللہ کے حضور میں درخواست کی ہے ۔ البتہ ، یہ دعائیں جن روایات میں نقل ہوئی ہیں، ان میں چونکہ زیادہ تر آپ ہی کے الفاظ روایت کیے گئے ہیں ، اس لیے اس پہلو سے یہ دعائیں بے پناہ اہمیت کی حامل ہیں ۔ مزید یہ کہ ان میں چونکہ اللہ سے مانگنے کے صحیح طریقے کی رہنمائی اور توحید کا صحیح شعور ہے ، اس لیے ہم انھیں سیکھتے اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ سوچ کر ہم انھیں سیکھیں اور اپنے بچوں کو سکھائیں کہ فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ادا کردہ الفاظ دہرانے یا عربی زبان میں دعا مانگنے سے دعا فوراً قبول ہو جائے گی تو ایسا نہیں ہے۔ دعاؤں کی قبولیت کا اللہ کا ایک ضابطہ ہے ، اس لیے دعائیں اس کی حکمت کے تحت ہی قبول ہوتی ہیں۔ وہ عربی زبان میں ہونے سے کوئی مختلف چیز نہیں بن جاتیں ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author