بدلے اور انتقام کی حدود

سوال:

1) بدلے اور انتقام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اصل ہدایات کیا ہیں؟

2) اسلام ہمیں بدلے کے معاملے میں کن حدود کا پابند بناتا ہے؟

3) جس شخص نے ہمیں بہت تکالیف پہنچائی ہو کیا اسلام اُس سے بدلہ لینے کی اجازت دیتا ہے؟

4) اس سلسلے میں اگر کوئی آیت یا صحیح حدیث موجود ہے تو براہِ کرم ا س کا حوالہ دے دیجیے؟


جواب:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غصہ، بدلہ اور انتقام تینوں کو ایک ہی مقام پر موضوع بنا کر ان کے حدود و قیود واضح کر دیے ہیں ۔ ارشادی باری تعالیٰ ہے ۔

’’(اللہ کا بہترین بدلہ ان اہل ایمان کے لیے ہے کہ جنھیں )اگر غصّہ آجائے تودرگزرکرجاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اورجب ان پرزیادتی کی جاتی ہے تواس کامقابلہ کرتے ہیں ، برائی کابدلہ ویسی ہی برائی ہے ، پھرجوکوئی معاف کر دے اوراصلاح کر لے اس کا اجراللہ کے ذمہ ہے ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اورجولوگ ظلم ہونے کے بعدبدلہ لیں ان کوملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جودوسروں پرظلم کرتے ہیں اورزمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔اور جس نے صبر کیا اورمعاف کیا ، تو بے شک یہ بڑ ی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے ۔‘‘ (شوریٰ 42: 36-43)

ان آیاتِ کریمہ کی رو سے آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں ۔

۱) اسلام میں بدلہ کا حکم یہ ہے کہ جس پر زیادتی کی جائے اسے بدلہ لینے کا حق ہے ۔گو کہ معاف کرنا زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے ۔

۲) بدلہ کی حدود ان آیات میں بالکل واضح ہیں ۔ یعنی برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ۔کوئی شخص اگر بدلہ لیتا ہے تو وہ ہر گز کسی ملامت کا مستحق نہیں ، تاہم اس بات کی اجازت ہر گز نہیں کہ ایک شخص کابدلہ دوسرے سے لیا جائے ۔اسی طرح بدلہ لیتے وقت کسی قسم کی زیادتی کرنے کی اجازت قطعاً نہیں ہے ۔ اس بات کو قتل کے بدلہ یعنی قصاص کے حوالے سے ایک دوسری جگہ اس طرح کھولا گیا ہے ۔

’’اورجوشخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہواس کے ولی کوہم نے قصاص کے مطالبے کاحق عطاکیا ہے ، پس چاہیے کہ وہ بدلہ میں حدسے نہ گزرے کیونکہ اس کی مدد کی گئی ہے ۔‘‘، (بنی اسرائیل33:17)

۳) اوپر بیان کردہ آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس شخص نے زیادتی کی ہو اس سے بدلہ لینے کی بالکل اجازت ہے ، بلکہ قتل کے معاملے میں تو ریاست کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ مظلوم کی دادرسی کرے اور قاتل سے قصاص لے ۔اوپر سورہ بنی اسرائیل کی آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ قتل کے جواب میں قاتل کی جان لینے تک کا حق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دیا ہے اور ریاست بدلہ لینے کے اس عمل میں اس کی مدد کرے گی۔

۴) آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں قرآنی آیات ہم اوپر نقل کر چکے ہیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author