بیوی اور والدین

سوال:

میری عمر 39 سال ہے ۔میں گلف میں رہتا ہوں ۔میری بیوی اور دو بچے امریکہ میں رہتے ہیں اور میرے والدین پاکستان میں رہتے ہیں ۔میں نے اور میری بیوی نے چند باہمی اسباب کی وجہ سے کچھ سال الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری بیوی سوچتی ہے کہ مجھے صرف اپنے والد اور بھائی بہنوں سے لگاؤ ہے ۔لہٰذا وہ میری فیملی کو ناپسند کرتی ہے ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ محض ا س کی غلط فہمی ہے اور ا س کا یہ احساس صحیح نہیں ہے ۔میں نے کئی دفعہ اسے سمجھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ دیکھو والدین والدین ہوتے ہیں اور بیوی بیوی۔کوئی ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتا، لیکن وہ بالکل نہیں سمجھتی۔وہ ہمیشہ فون پر مجھ سے جھگڑ ا کرتی رہتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے یہ کہا اور اس نے یہ کہا۔اب میں اس کا کیا کرسکتا ہوں کہ اگر میری بہن اس سے یہ پوچھ لیتی ہے کہ آج سارا دن آپ نے کیا کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے بیوی اور بچوں سے متعلق فرائض پوری طرح ادا کر رہا ہوں ۔میں ان سے پیار کرتا ہوں ، ان کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر ہے ، کھانے پینے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، وہ روز مجھ سے فون پر بات کرتے ہیں ، سال میں 3 یا 4 بار وہ مجھ سے ملنے آتے ہیں ، میں انہیں پھول اور تحائف بھیجتا رہتا ہوں ، لیکن پھر بھی میری بیوی مجھ سے نفرت کرتی ہے اور پچھلے دس سال سے وہ ایسا ہی کر رہی ہے۔ اب عید کاموقع ہے تو مجھے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ میں پاکستان اپنے والد اور بھائی بہنوں کے پاس جاؤں یا امریکہ اپنے بیوی بچوں کے پاس۔والد اور بہنیں مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں اور بیوی بچے اپنے پاس آنے کے لیے ضد کر رہے ہیں ۔میں بہت پریشان ہوں اور اس گومگومیں ہوں کہ کیا فیصلہ کروں اور کہاں جاؤں؟ ایک طرف والد اور بھائی بہنیں ہیں اور دوسری طرف بیوی بچے ۔براہِ مہر بانی میری مدد اور رہنمائی کیجیے ۔میں ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ وہ میری اور میری بیوی کی مدد کرے ، اور میری بیوی کو مثبت طریقے سے سوچنے کی توفیق دے۔ آپ بھی میرے لیے دعا کیجیے گا؟ (احمد)


جواب:

آپ نے جو حالات تحریر فرمائے ہیں وہ بے حد افسوسناک ہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے آپ کی مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ والدین ، اولاد اور بیوی سب کے حقوق جدا جدا ہیں اور ان سب کو ہی ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ ان رشتوں میں باہم اختلاف ہو تو حکمت سے معاملات کو حل کرنا چاہیے ۔آپ کے لیے بڑ ی سہولت یہ ہے کہ بیوی اور والدین الگ رہتے ہیں ۔ اس کے بعد یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ بیوی آپ سے اور والدین سے ناراض کیوں ہے؟ کیونکہ زیادہ تر جھگڑ ے ساتھ رہنے والوں میں ہوتے ہیں ۔ بہرحال عید کے موقع پر جانے کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ عیدیں دو ہوتی ہیں ، اس لیے ایک عید پر والدین اور دوسری پر بچوں کے پاس چلے جائیں اور قرعہ ڈال کر یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ پہلی عید کہاں کریں گے اور اس بات کی خبر آپ والدکن اور بیوی دونوں کو کر دیں کہ آپ کس طرح فیصلہ کر رہے ہیں۔

آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ بیوی آپ سے نفرت کرتی ہے ۔ ایسی صورت میں نفرت کے اسباب دور کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور اگر پھر بھی مسئلہ رہے تو علیحدگی اختیار کر لیں کیونکہ یہ نفرت اس رشتے کو زیادہ برے انجام تک پہنچا سکتی ہے ۔ خاص کر جب کہ آپ اور آپ کی بیوی دونوں علیحدہ رہتے ہوں ۔شادی محبت کا رشتہ ہے ۔ اس کی جگہ اگر نفرت لے لے تومتبادل راستوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے مسائل کو حل فرمائے ۔آمین

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author