بھائی بہینوں سے حسد

سوال:

میں ایک مہذب پڑھی لکھی لڑکی ہوں۔ تقریبا ہر چیز کی طرف ایک مثبت سوچ رکھتی ہوں۔ البتہ ایک مسئلہ مجھے درپیش ہے۔ کبھی کبھی میں اپنے کسی بھائی یا بہین سے حسد محسوس کرتی ہوں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب میری امی انہیں مجھ سے زیادہ توجہ اور محبت دیتی ہیں۔ ایسے موقعہ پر میں بہت اداس اور پریشان ہو جاتی ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس مسئلہ کا کیا حل کروں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ والدین کو اپنے سارے بچوں سے ایک جیسا سلوک کرنا چاہیے۔ یہ بات میں اپنے والدین کو کیسے بتاؤں۔ میری راہنمائی کریں۔


جواب:

والدین کا کسی ایک اولاد کو ترجیح دینا دو وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ کسی مادی یا جبلی وجہ کی بنا پر وہ اولادانہیں زیادہ مرغوب ہو۔ دوسرے یہ کہ اولاد اپنی نیکی، محبت، خدمت اور اطاعت کی بنا پر والدین کی نظر میں زیادہ مقام حاصل کرلے۔ اس میں دوسری چیز وہ ہے جو اولاد کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ یہ محسوس کرتی ہیں کہ والدین دوسرے بہن بھائیوں کو کسی وجہ سے زیادہ توجہ دیتے ہیں تو آپ زیادہ خدمت گزار، محبت کرنی والی، خیال رکھنے والی اور اطاعت گزار بن جائیے۔تھوڑے عرصے میں آپ دیکھیں گی کہ والدین دوسروں سے زیادہ آپ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔یا درکھیے والدین اپنی کمزوری کی بنا پر کسی ایک اولاد سے زیادہ محبت تو کرسکتے ہیں، مگر یہ ناممکن ہے کہ کسی نیک اور صالح اولاد سے کم محبت کریں۔ یہ خلاف فطرت ہے ۔ خدمت تو دشمنوں کے دل میں گھر کرجاتی ہے،یہ تو آپ کے اپنے والدین ہیں۔ ممکن ہی نہیں کہ آپ کی تبدیلی کے بعد وہ تبدیل نہ ہوں۔
ہمارا تجربہ ہے کہ تعلقات میں شکایات مسئلے کو اور خراب کردیتی ہیں اور یکطرفہ خدمت اور محبت معاملے کو درست کردیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ ایسا کیوں کریں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ایسا صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گی کہ اللہ تعالیٰ خود آپ کی مدد کریں گے کیونکہ آپ اس کی محبوب ہوجائیں گی اور اس کے نتیجے میں وہ آپ کو پورے گھرانے کی نظر میں سب سے بڑھ کر محبوب بنا دیں گے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author