بھکاری كی مدد كرنا اور خنزير كا نام لينا

سوال:

۔ اگر کوئی بھکاری ہم سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام پر بھیک مانگے جیسے داتا دربار یا ہمارے والدین کے نام پر تو کیا ھمیں اس کی ضرورت پوری کرنی چاہیے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اس کا ایمان اس بات پر پکا ہو جائے گا کہ دربار والے مرحوم پیر نے ہی اس کی مدد کی ہے تو اس کی ضرورت پوری ہوئی ہے۔ رہنمائی فرمائیے۔

٢۔ کہا جاتا ہے کہ خنزیر (pig) کو سور کہنے سے ٠٤ دن تک کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ کیا یہ بات درست ہے؟


جواب:

1- ہم بد عقيده بهكارى كى ضرورت بهى پورى كريں اور اسے يہ بهى بتائيں كہ دينے والا صرف الله ہے.ہم اسے يہ سمجهائيں گے كہ مشرك قوميں مثلاً، ہندو لوگ اپنے بتوں سے اپنى حاجتيں مانگتے اور پورى ہونے پر يہ سمجھتےہيں كہ يہ حاجات ان بتوں نے پورى كى ہيں، حالانكہ وه حاجات صرف الله نے پورى كى ہوتى ہيں. بس اسى طرح ہمارى حاجات بهى صرف الله ہى پورى كرتا ہے.

2- خنزير كو سؤر كہنے سے كچھ نہيں ہوتا.

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author