بدعت

سوال:

-1 ميں بدعت كے متعلق معلوم كرنا چاہتا ہوں اكثر لوگ بہت سارے امور كے متعلق كہتے ہيں كہ يہ بدعت ہے، جس كى بنا پر مجھے بہت تشويش اور مشكل ہوتى ہے، پھر يہ كہ آيا كيا كسى حديث ميں يہ بيان نہيں ہوا كہ: اگر كوئى شخص نيا اور فائدہ مند عمل كرتا ہے تو اسے ثواب ہو گا ؟ اگر ايسا ہى ہے تو پھر سب بدعات كو مذموم كيوں شمار كيا جاتا ہے ؟

2- ميں نے اشعرى اور صوفيوں كے كئى ايك مقالہ جات اور مضامين كا مطالعہ كيا ہے جس ميں انہوں نے بدعت حسنہ پر اس صحابى كے قصہ سے استدلال كيا ہے كہ صحابى نے ركوع سے سر اٹھا كر ربنا و لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كے الفاظ كہے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كو صحيح قرار ديا.

ان كا كہنا ہے كہ حافظ ابن حجر اس رائے كا ساتھ ديتے ہيں اور انہوں نے ابن تيميہ رحمہ اللہ كو گمراہى كى طرف لے جانے والا قرار ديا ہے، كيا اس پر آپ كوئى تعليق لگائينگے ؟

-3 اگر بدعت مردود ہے قابل قبول نہيں تو قرآن مجيد جمع كرنے كے بارہ ميں كيا ہے ؟ اور اسى طرح دوسرى اشياء كا اضافہ مثلا عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا اذان ميں اضافہ كرنا ؟

برائے مہربانى اس كى وضاحت فرمائيں، كيونكہ بعض لوگ بدعت كى تقسيم كرتے ہوئے بدعت حسنہ كو جائز قرار ديتے ہوئے اسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف منسوب كرتے ہيں، آيا يہ صحيح ہے؟


جواب:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین انسانوں تک پہنچایا ہے اس کا اصل مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور پسند کے راستے سے آگاہ کرنا ہے۔ اس دین میں بنیادی طور پر دو قسم کی ہدایات ہیں ۔ایک وہ جن میں اللہ تعالیٰ سے متعلق لوگوں کے علم و عمل کو درست کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو مطلوب عقائد و عبادات اور مراسم و اعمال کی تفصيل۔ اس دین کا دوسرا حصہ اُن قوانین و ہدایات پر مشتمل ہے جن کا تعلق انسانوں کے انفرادی، اجتماعی اور باہمی معاملات سے ہے۔ یہ دوسری قسم کے امور وہ ہیں جن میں عقل یہ کہتی ہے اور قرآن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وقت، حالات اور ماحول کی بہت کچھ رعایت کی جانی چاہیے۔ چنانچہ ان احکام کو دیتے وقت اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ معاشرے کے دستوراور عرف کی رعایت کرنے کا حکم خود دیا ہے۔ اسی طرح ان ہدایات کو بہت ہی اصولی اور محدود معاملات تک محدود رکھ کر انسانوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ شریعت میں دیے گئے اصولوں کی روشنی میں اپنے حالات، ماحول اور معاشرے کے اعتبار سے ہر زمانے میں قانون سازی کرکے نئے قوانین اخذ کرسکتے ہیں۔

البتہ جہاں تک پہلی چیز کا تعلق ہے یعنی عقائد، مراسم، مناسک اور تعبدی امور، ان میں عقل بھی یہ کہتی ہے اور قرآن و حدیث سے بھی يہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کرکے کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ کوئی فائدہ، بلکہ الٹا يہ اصل دین ميں ضرراور اس کی تعلیمات کو غیر اہم بنادینے کا سبب بن جاتا ہے۔

بدعت کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو کچھ آیا ہے وہ دراصل اسی پہلے قسم کے احکام دین کے بارے میں آیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

ان کے کیا کوئی شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ (شوریٰ 21:42)

سورہ اعراف اور انعام اور دیگر کئی مقامات پر مشرکین کی بدعتوں اور دین میں کیے گئے ان کے اضافوں کو زبردست طریقے سے ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں دین میں اضافوں اور بدعتوں پر زبردست تنقید کرکے ان سے روکا اور منع فرمایا فرمایا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کے چند ارشادات درج ذیل ہیں:

جس شخص نے ہمارے اس دین میں کسی ایسی بات کا اضافہ کیا جو دراصل اُس میں نہیں ہے وہ مردود ہے۔ (بخاری، رقم2499۔ مسلم، رقم3242)
تم پر لازم ہے کہ تم (دین میں) نئی نئی چیزوں سے بچو، کیوں کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مشکوٰۃ، رقم165)
دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنا بدترین کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مسلم، رقم1435)

قرآن و حدیث کے ان سارے ارشادات کی رو سے یہ بات واضح ہے کہ بدعت ایک بدترین کام ہے۔ تاہم ابتدا میں کی گئی ہماری وضاحت سے يہ حقيقت بالکل واضح ہے کہ بدعت کا اطلاق ہر چیز پر نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بدعت دراصل عقائد اور تعبدی امور و مراسم سے متعلق چیزوں میں اضافے کا نام ہے۔ اس کے علاوہ جو دینی احکام انسانی معاملات سے متعلق ہیں اُن میں بوقتِ ضرورت اجتہاد کرکے نئی آرا قائم کی جاسکتی ہے اور نئے قوانین بھی وضع کیے جاسکتے ہیں۔ نیز انتظامی اور عملی ضروریات کے پیشِ نظر جو کام کیے جائیں ، چاہے وہ دینی نوعیت کے ہوں، اُن سے بھی کوئی بدعت وجود میں نہیں آتی۔

اس اصولی جواب کے بعد اب ہم ایک ایک کرکے آپ کے سوالات کے جواب دیں گے:

١) -جن امور کو لوگ بدعت ٹھہراتے ہیں ان کا جائزہ آپ ہمارے مذکورہ بیان کی روشنی میں لے لیجیے، اگر ان کا تعلق عقائد و ایمانیات اور تعبدی امور و مراسم سے ہے اور ان کی اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہیں۔ آپ نے جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ یوں ہے:

جس شخص نے مسلمانوں میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا گیا تو جس طرح کا اجر عمل کرنے والوں کو ملے گا ویسا ہی اجر اس کے لیے بھی لکھ لیا جائے گا۔ اور ان لوگوں کے اجر میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔ (مسلم رقم1017)

اس روایت کو جب اس کے پورے سیاق و سباق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انتہائی غریب اور فقر و فاقہ کا شکار دیہاتی لوگ آئے۔ چنانچہ رسول اللہ نے ایک خطبہ دے کر لوگوں کو صدقہ کرنے کی تلقین کی۔ جس پر ایک انصاری نے پہل کی جس کے بعد باقی لوگ بھی بہت کچھ سامان لے آئے۔ اسی واقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبصرہ کیا ہے۔ چنانچہ صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث کا تعلق کسی اعتقادی یا تعبدی امور میں اضافے سے نہیں بلکہ ایک اچھے عمل کا آغاز کرنے سے ہے، اس کا تعلق مخلوق خدا کی فلاح و بہبود کے کاموں سے ہے۔

چنانچہ يہ بات بالکل واضح ہے کہ اس حدیث میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ دین میں بدعات جاری کی جائیں۔ اس کا تعلق صرف اُن اعمال اور طریقوں سے ہے جن میں لوگوں کو دین و دنیا کا کوئی نفع تو مل رہا ہو، لیکن کوئی بدعت ایجاد نہ ہورہی ہو۔ جیسے مثال کے طور پر دین سکھانے کے لیے تعلیمی ادارے بنانا، لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے فلاحی ادرے قائم کرنا وغیرہ۔

٣،٢) -ہم بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کی بحث کو صحیح نہیں سمجھتے۔ جو تقسیم ہم نے شروع میں بیان کی ہے اس کی روشنی میں ایمان و عقائد اور تعبدی امور و مراسم میں جو اضافہ بھی کیا جائے گا وہ غلط اور بدعت ہوگا۔ جن واقعات کا آپ نے ذکر کیا ہے ان کا صحیح موقع و محل ہم واضح کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد امید ہے کہ آپ کو کوئی غلط فہمی نہیں رہے گی:

ایک صحابی کے رکوع سے اٹھ کر ربنا و لك الحمد کے بعد حمدا کثيرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ کہنے کا بدعت سے کوئی تعلق نہیں۔نماز کچھ متعين اعمال اور اذکار کا نام ہے۔ نماز ميں متعين اعمال کے علاوہ کچھ اور اعمال تو نہيں کيے جاسکتے البتہ نماز خود ذکر ہی کی ايک شکل ہے اس ليے اذکار کے معاملے ميں يہ آزادی ہے کہ متعين اذکار کے علاوہ نمازی اپنی طرف سے ذکر اور دعا کرسکتا ہے۔ ان صحابی کے مذکورہ بالا الفاظ اسی حقيقت کا بيان ہيں۔ انہوں نے کوئی نيا کام نہيں کيا۔ یہ اسی کی ایک شکل تھی جس کے الفاظ کی خوبصورتی اور قبوليت کو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے بيان کرديا ۔ اس میں بدعت کہاں سے آگئی ؟بدعت توایک نئے عمل کو جس کا کوئی حکم قرآن و حديث ميں نہ ہو ،اسے جاری کرنے کو کہتے ہیں۔

جہاں تک قرآن مجيد کی جمع و ترتيب سے بدعت پر استدلال ہے تو اس ضمن ميں يہ حقيقت سامنے رہنی چاہيے کہ کلام الہی اس بات پر بالکل واضح ہے کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی جمع و مرتب ہوچکا تھا۔ يہ کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ ليا تھا (قیامہ16-19:75،اعلیٰ6-7:87) اور رسول اللہ کی وفات سے قبل ہی پايہ تکميل کو پہنچ گياجب عرضہ اخيرہ کے موقع پر جبريل امين نے آپ کو زندگی کے آخری رمضان ميں دو دفعہ مکمل قرآن مجيد پڑھ کر سنايا،(بخاری، رقم4998)۔ خلفائے راشدین کے دور میں جو کچھ ہوا وہ حفاظت قرآن کے ضمن ميں بعض انتظامی نوعیت کے معاملات تھے جن کا بدعت سے کوئی تعلق نہيں۔ جہاں تک حضرت عمر کے اذان میں اضافہ کرنے کا تعلق ہے یہ بھی ایک غلط فہمی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اذان میں کوئی اضافہ نہیں کیا بلکہ فجر کی اذان میں الصلوٰة خير من النوم کے جو اضافی الفاظ پائے جاتے ہیں وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے متعین کیے تھے۔(ابو داؤد، رقم500)

٤) -بدعتِ حسنہ کے متعلق ہم گزارش کرچکے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایمان و عقائد اور تعبدی امور و مراسم میں کیا گیا ہر اضافہ جس کا حکم قرآن، حديث اور سنت ميں نہ ہو،بدعت ہی رہتا ہے چاہے وہ کتنی ہی اچھی دینی اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے۔

اس جواب کے کسی پہلو کے حوالے سے اگر کوئی بات مزيد وضاحت طلب ہے توآپ بلا جھجک ہم سے رابطہ کريں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں ميں راسخ فرمادے اور ہماری غلطيوں کو معاف فرماکر صحيح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے،آمين

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author