بہتان اور طلاق

سوال:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر شک کرتے ہوئے یہ الزام لگائے کہ وہ اس کے بعض رشتہ داروں پر جادو کر رہی ہے یا کرا رہی ہے، پھر وہ خاتون قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی معصومیت کی قسم کھا لے کہ اس نے اس طرح کا کوئی جادو وغیرہ نہیں کیا تو کیا مذکورہ خاوند اپنی بیوی پر جادو کا یہ بہتان لگانے کے بعد اس کے ساتھ رہ سکتا ہے؟


جواب:

کیوں نہیں رہ سکتا، بالکل رہ سکتا ہے۔ جب بیوی سے قسم لے لی ہے تو اس کے بعد خاوند کا اعتماد بحال ہو جانا چاہیے اور میاں بیوی کی باہمی محبت واپس لوٹ آنی چاہیے۔


یہ بات ذہن میں رہے کہ اس واقعے میں بے شک خاوند نے بیوی پر شک کیا ہے اور اس پر ایک بہتان لگایا ہے، لیکن اس طرح کی کسی بات کا اثر ان کے نکاح پر نہیں پڑتا، لہٰذا اس پہلو سے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author