کیا خواتین نماز جنازہ میں شامل ہو سکتی ہیں؟ کیا خاتون نماز جنازہ کی امامت کر سکتی ہے؟

سوال:

کیا خواتین نماز جنازہ میں شامل ہو سکتی ہیں؟ کیا خاتون نماز جنازہ کی امامت کر سکتی ہے؟


جواب:

جس طرح باقی نمازیں خواتین ادا کر سکتی ہیں اسی طرح نماز جنازہ بھی ادا کر سکتی ہیں- نماز جنازہ سے عورت كو منع نہيں كيا گيا چاہے نماز جنازہ مسجد ميں ادا کی جائے يا گھر ميں يا عيد گاہ ميں، اور عورتيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ مسجد نبوى ميں نماز جنازہ ادا كيا كرتى تھيں، اور ان كے بعد بھى ادا كرتى رہيں- اس میں صورت یہ ہوگی کی مردوں کی صفیں الگ ہوں گی اور خواتین کی الگ، ٹھیک ویسے ہی جیسے باقی نمازوں میں ہوتی ہیں-

جہاں تک خاتون کا نماز جنازہ کی امامت کا سوال ہے تو یہ ویسا ہی مسئلہ ہے جیسے عام نمازوں میں خاتون کی امامت کا مسئلہ- اس میں بعض مستثنیٰ علماء کی آرا کے علاوہ اکثرعلماء کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ ایک خاتون خواتین کی جماعت کی امامت کر سکتی ہے، لیکن مردوں کی نہیں- ہمارے نزدیک مسلمان معاشرے میں مردوں کے امام ہونے ایک روایت قائم ہو گئی ہے اور اسی کی پابندی کرنی چاہیے تاہم کسی خاتون کا جماعت کی امامت کرنا دین میں ناجائز نہیں ہے-

answered by: Mushafiq Sultan

About the Author

Mushafiq Sultan


Mushafiq Sultan, born in Kashmir (Indian Administered) in 1988, has been studying world religions from his school days. In 2009 Mushafiq came across the works of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and since then has been highly influenced by his thought. He has an exceptional interest in world religions, their philosophies and their mutual relations. He formally joined Al-Mawrid in 2016 as Assistant Fellow (Honorary). Presently, he is in charge of Al-Mawrid’s query service. In 2016, he published his first book ‘Muhammad (sws) in the Bible- An Exposition on Isaiah 42’. He has written articles on Islam, Christianity and Hinduism. He has also translated several articles of Javed Ahmad Ghamidi into Hindi.