چھ ماہ کے دن اور چھ ماہ کی رات میں روزہ و نماز کے اوقات

سوال:

جن علاقوں میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے، ان میں نمازیں کیسے پڑھی جائیں گی اور روزے کیسے رکھے جائیں گے؟


جواب:

جن علاقوں میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے ۔ کیا ان میں آدمی چھ ماہ سوتا اور چھ ماہ جاگا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ دن اور رات کی لمبائی اور چھوٹائی سے قطع نظر اپنے لیے چوبیس گھنٹے کا پروگرام بناتا ہے۔اور پھر اس کے مطابق وہ کھاتا پیتا ،سوتا جاگتا اور دیگر کام کاج کرتا ہے۔حالانکہ مسلسل دن یا مسلسل رات چل رہی ہوتی ہے۔ چنانچہ کیا مشکل ہے کہ آدمی اسی طرح چوبیس گھنٹوں میں اپنی پنج وقتہ نمازوں کے اوقات اور سال کے روزوں کو کسی قریبی علاقے کے اوقات کے مطابق متعین کر لے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author