چند اقسامِ قرض

سوال:

قرض کی درج ذیل دوقسموں کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے:

  1. مکان کی ملکیت کے حصول سے پہلے آپ مکان کی قیمت (قرض) کی قسطوں میں ادائیگی کے ساتھ ساتھ کچھ مزید رقم بھی بطورِ کرایہ ادا کرتے ہیں تو کیا یہ رقم ادا کرنا صحیح ہے ؟
  2. بینک آپ کے لیے مکان خریدتا ہے اور قسطوں میں اصل رقم (قرض)سے زیادہ رقم وصول کرتا ہے تو کیا یہ رقم سود ہو گی یا بینک کے ساتھ اس طرح کی ڈیل کی جا سکتی ہے ؟

جواب:

آپ کے بیان کردہ قرض کی پہلی قسم میں بظاہر ہمیں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوتی اس لیے کہ اس میں نفع کی بنیاد اجارہ ہے نہ کہ سود۔اس طریقے میں قرض دینے والا ادارہ قرض کی رقم قسطوں میں وصول کرتا ہے ۔اس قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد مکان کی ملکیت مقروض کو منتقل کر دی جاتی ہے ۔اس دوران میں مقروض اس مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے رہتا ہے اور اس حیثیت میں وہ مکان کا کرایہ یا ’اجارہ‘ ادا کرتا ہے ۔ اس طرح ایک ضرورت مند شخص جس کا اپنا مکان نہیں ہوتا مکان کا مالک بن جاتا ہے اور قرض دینے والے کو اس کی رقم واپس ملنے کے علاوہ کرایے کی مدمیں آمدنی بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح دونوں فریقین کا فائدہ ہوتا ہے اور شریعت کے کسی اصول کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوتی۔

آپ کی بیان کردہ دوسری شکل ہمیں بیع مرابحہ کی ایک قسم محسوس ہوتی ہے جس میں بینک آپ کی ضرورت کی ایک چیز یا مکان خرید کر آپ کو دوبارہ زیادہ قیمت پر فروخت کر دیتا ہے ۔یہ ہمارے نزدیک سود ہی کو ایک حیلہ کے ذریعے سے اختیار کیے جانے کے مترادف ہے ۔اس لیے اس سے بچنا چاہیے ۔ تاہم یہ واضح رہے کہ اپنی اصل میں یہ بھی سود نہیں، بلکہ کرایہ ہی ہےاور ضرورت اسی امر کی ہے کہ بینک اس قرض میں اس اضافی رقم کی کی نوعیت کو سود کہنے کی بجائے کرایہ قرار دیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author