دیہی مسجد کا انتظام

سوال:

ایک مسجد جس کے وسائل کچھ وقف زمین اور علاقے کے ٹھیکے پر کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں پر منحصر ہیں ، نائب ناظم کی بے جا مداخلت کا شکار ہے۔ نائب ناظم جو صرف عید کی نماز پڑھنے تک مسجد سے عملی تعلق رکھتا ہے ، مسجد کے حوالے سے اپنی مرضی چلاتا ہے۔ مسجد کے دو مولوی صاحبان اس کی بدتمیزی کے باعث مسجد چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ علاقے کے لوگ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ناظم سے ٹکر لے سکیں ، اس صورت حال کا دینی حل کیا ہے؟مزید براں یہ بھی بتائیے کہ کیا یہ مسجد محکمہ اوقاف کے حوالے کی جا سکتی ہے؟


جواب:

ہمارے ملک میں مساجد بالعموم محلے کے زیر انتظام چل رہی ہیں۔ اصولاً جمعہ اور عیدین کی نماز کا اہتمام حکومت کو کرنا چاہیے اور علاقے کے حاکم یا اسی کے مقرر کردہ امام کو امامت کرانی چاہیے۔آپ کے مسئلے کا دینی حل یہی ہے ، لیکن اس اصول پر مسئلہ حل ہو جائے ، اس کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے۔ لہٰذا مسئلہ حل کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ کوئی اچھی حکمت عملی اختیار کی جائے۔


دیہی علاقوں میں صورت حال ، جیسا کہ آپ کے علاقے کی مثال سے بھی واضح ہے ، کافی پیچیدہ ہوتی ہے۔ وہاں لوگ علاقے کے بااثر لوگوں کی گرفت میں ہوتے ہیں اور انھیں بڑے شہروں کے رہنے والے لوگوں کی طرح فیصلے کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ اگر یہ با اثر لوگ نیک اور خوش اخلاق ہوں تو لوگ اطمینان سے رہ لیتے ہیں۔ دوسری صورت میں تکلیف دہ حالات سے دوچار رہتے ہیں۔


پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اس صورت حال کو مان کر سوچنا چاہیے۔ وہ خارجی حالات جن کو تبدیل کرنے میں بہت سی دشواریاں حائل ہوں اور جن سے ٹکرانے کے نتیجے میں مشکلات بڑھ تو سکتی ہوں ، ان کے دور ہونے کا کوئی امکان نہ ہو ، ان سے معاملہ حکمت اور دانش سے کرنا چاہیے۔


میری تجویز یہ ہے کہ مسجد کے انتظام کو پہلے مرحلے میں ایک کمیٹی کے سپرد کرنا چاہیے۔ یہ کمیٹی ایسے لوگوں پر مشتمل ہو جو نائب ناظم یا علاقے کے موثر لوگوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملہ کر سکتے ہوں۔ یہ کمیٹی کسی جھگڑے کو مول لیے بغیر آہستہ آہستہ علاقے کے با اثر لوگوں سے فیصلے کرنے کا حق منوا لے۔ شروع میں اگر اس طرح کا کوئی بڑا آدمی کمیٹی میں شامل ہو تو منزل جلدی حاصل ہو سکتی ہے۔


اس معاملے میں مولوی صاحب کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اگر کوئی ایسا آدمی امام صاحب کی حیثیت سے میسر ہو جائے جسے اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کا تجربہ ہو اور وہ اپنے اخلاق وکردار اور علم سے ان کے دل میں اپنا احترام پیدا کر لے تو اس طرح کی ناگوار صورت حال کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔


محکمہ اوقاف کے حوالے سے مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو محکمہ اوقاف سے رابطہ کرنا چاہیے اور ان کے قواعد و ضوابط معلوم کرکے آپ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ مسجد اس محکمے کے زیر انتظام آجائے۔ علاقے کے با اثر لوگ اس کے بعد مداخلت سے باز آجائیں گے ، اس کا امکان مجھے کم ہی نظر آتا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author