دار الکفر میں الکوحل بیچنا

سوال:

کیا دار الکفر میں alcohol بیچنا جائز ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ غیر مسلم ممالک میں شراب وغیرہ پینا پلانا جائز ہے۔


جواب:

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دین نے دار الحرب اور دار السلام کی کوئی تفریق نہیں کی۔ یہ فقہاء کا اجتہاد ہے۔ جس کے تحت بنائی گئی آراء پر اب کہیں بھی عمل نہیں ہو رہا۔ اور وہ لوگ جو اس تقسیم کے قائل ہیں وہ بھی ان احکامات پر عمل نہیں کرتے جو ان کے فقہی مذاہب نے اپنے اس تصور پر مرتب کئے تھے۔ مثال کے طور پر دار الحرب میں قیام کے مسئلہ کو ہی دیکھ لیجئے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شراب پینے کی ممانعت اخلاقی اصول پر قائم ہے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں میں فطرت سلیمہ کے اہل اس حرمت کے قائل ہیں ۔ لہذا یہ شراب پینا اور اس میں کاروبار کرنا ناجائز ہے۔ یہ نہ تو مسلمانوں اور نہ غیر مسلمانوں کو بیچی جائے۔

البتہ اگر کسی ایسے معاشرہ میں جہاں پینا پلانا معمول ہے جیسے کہ مغرب میں ہے آپ کوئی سٹور وغیرہ چلاتے ہیں اور اگر شراب نہیں رکھتے تو آپ کے گاہک ہی نہیں آئیں گے تو مجبوری کی صورت میں انہیں کیٹر کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں ممکن ہے اللہ تعالی ہماری مجبوری کے پیش نظر معاف فرمائیں۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author