داڑھی کا مونڈنا

سوال:

میں ایک سوال کے بارے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ میں نے غامدی صاحب کو کہتے سنا ہے کہ داڑھی رکھنا احکام دین میں لازم یا فرض نہیں ہے۔ لیکن علامہ راشدی صاحب نے ایک حدیث قدسی بیان کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ داڑھی رکھو اور مونچھ کاٹو)۔ برائے مہربانی اس بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان فرمائیے۔


جواب:

دین میں ڈاڑھی کی حیثیت کے بارے میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے دو قول ہیں۔ قول جدید کے مطابق یہ ان کے نزدیک کوئی دینی نوعیت رکھنے والی چیز نہیں، جبکہ قول قدیم یہ ہے کہ اسے دین کے ایک شعار اور انبیا کی سنت کی حیثیت حاصل ہے۔ ١٩٨٦ء میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے لکھا کہ:

''ڈاڑھی نبیوں کی سنت ہے۔ ملت اسلامی میں یہ ایک سنت متواترہ کی حیثیت سے ثابت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دس چیزوں میں شمار کیا ہے جو آپ کے ارشاد کے مطابق اس فطرت کا تقاضا ہیںجس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم ولکن اکثر الناس لا يعلمون

''اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔''

بنی آدم کی قدیم ترین روایت ہے کہ مختلف اقوام و ملل اپنی شناخت کے لیے کچھ علامات مقرر کرتی ہیں۔ یہ علامات ان کے لیے ہمیشہ نہایت قابل احترام ہوتی ہیں۔ زندہ قومیںاپنی کسی علامت کو ترک کرتی ہیں، نہ اس کی اہانت گوارا کرتی ہیں۔ اس زمانے میں جھنڈے اور ترانے اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو ہر قوم میں یہی حیثیت حاصل ہے۔ دین کی بنیاد پر جو ملت وجود میں آتی ہے، اس کی علامات میں سے ایک یہ ڈاڑھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دس چیزوں کو فطرت میں سے قرار دیا ہے، ان میں سے ایک ختنہ بھی ہے۔ ختنہ ملت ابراہیمی کی علامت یا شعار ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی حیثیت بھی اس ملت کے شعار کی ہے، چنانچہ کوئی شخص اگر ڈاڑھی نہیں رکھتا تو وہ گویا اپنے اس عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ملت اسلامی میں شامل نہیں ہے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اگر اس ملک کے علم اور ترانے کو غیر ضروری قرار دے تو ہمارے یہ دانش ور امید نہیں ہے کہ اسے یہاں جینے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن اسے کیا کیجیے کہ دین کے ایک شعار سے بے پروائی اور بعض مواقع پر اس کی اہانت اب ان لوگوں کا شعار بن چکا ہے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں بہرحال اپنے شعار پر قائم رہنا چاہیے۔'' (اشراق، ستمبر ١٩٨٦)

میری طالب علمانہ رائے میں ڈاڑھی کو ایک امر فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذ گرامی کا قول قدیم زیادہ اقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں ڈاڑھی کو ''شعار'' مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ روایات کے مطابق صحابہ کے عہد میں بعض مقدمات میں مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی ڈاڑھی مونڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دور صحابہ کے بعض جلیل القدر تابعی فقہا سے منقول ہیں۔ (رواس قلعہ جی، موسوعہ فقہ ابی بکر۔ اخبار القضاۃ لوکیع) اگر یہ حضرات ڈاڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقینا مذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح ڈاڑھی کو دینی شعار سمجھتے ہوئے اسے تعزیراً مونڈ دینے کا فیصلہ بھی ناقابل فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے فقہا کے ہاں عام طور پر یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعزیر کے طور پر کسی مسلمان کی ڈاڑھی نہیں مونڈی جا سکتی۔ واللہ اعلم

answered by: Ammar Nasir

About the Author

Ammar Khan Nasir


Mr Ammar Khan Nasir was born in December 1975 to a renowned religious and scholarly family in the town of Gakhar Gujranwala, Pakistan. His grandfather Mawlana Muhammad Sarfaraz Khan Safdar is considered the academic voice of the Deobandi School in the country. His father, Mawlana Zahid al-Rashidi, is a famous religious scholar known for his sound and balanced religious approach.

Mr Ammar Khan Nasir obtained his elementary religious education in Madrasa Anwar al-Uloom Gujranwala. He obtained Shahada Alamiyyah from Madrasa Nusrat al-Uloom Gujranwala in 1994. Then he started pursuing conventional studies and obtained Masters Degree in English Literature from the University of the Punjab in 2001. He has worked as Assistant Editor of the Monthly Al-Shari’ah published from Gujranwala from 1989 to 2000. Since then he has been serving as the Editor of the journal. He taught the Dars-e Nizami course at Nusrat al-Uloom from 1996 to 2006. He joined GIFT University Gujranwala in 2006 where he teaches Arabic and Islamic Studies to graduate and MPhil classes.

Mr Ammar Khan Nasir has many academic works to his credit. His first work, “Imam Abū Hanifa and Amal bil Hadith” (Imam Abū Hanifa and Adherence of Hadith) appeared in print in 1996. In 2007 he academically reviewed the recommendations of the Council of Islamic Ideology, Government of Pakistan, regarding Islamic Punishments. His research on the issue was later compiled and published by Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, Lahore entitled “Hudood-o Ta’zeeraat, Chand Aham Mabahis” (Discussions on Islamic Penal Code). His other research works include Masjid Aqsa ki Tarikh awr Haq-e Tawalliyat (History of the Sacred Mosque in Jerusalem and the Question of its Guardianship) and Jihad. His research articles on variety of religious issues continue appearing in the Monthly Ishraq Lahore, Monthly Al-Shari’ah, Gujranwala and Monthly Nusrat al-Uloom Gujranwala.

Mr Ammar Khan Nasir was introduced to Javed Ahmad Ghamidi in 1990. Since then he has been under his informal tutelage. In 2003 he joined al-Mawrid. He plans to work on and study and do research on the Farahi School from different academic angles. His works and articles can at accessed on http://www.al-mawrid.org, the official site of Al-Mawrid and at his personal site http://www.ammarnasir.org.