ڈاڑھی کی اہمیت اور فرضیت

سوال:

مسلمان کے لیے ڈاڑھی رکھنا کتنا ضروری ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاڑھی سے متعلق صحیح احادیث بھی اسے فرض ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں تو پھر امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر ائمہ نے اسے فرض کیوں سمجھا ہے؟


جواب:

 استاذ محترم جاوید احمد صاحب غامدی کی راے کے مطابق ڈاڑھی سنت تو نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈاڑھی رکھتا ہے تو اس کا نبی سے اظہار محبت کا یہ عمل اس کے لیے باعث اجر و ثواب ہو گا۔

 حدیث میں ڈاڑھی کے حوالے سے جو الفاظ آئے ہیں، وہ فعل امر کے صیغے میں آئے ہیں، جیسا کہ

 'اُعْفُوا اللُّحٰی'

(ڈاڑھی بڑھاؤ) ،

 'وَ وَفِّرُوا اللُّحٰی' 

(ڈاڑھی بڑھاؤ) ،

'اَوْفُوا اللُّحٰی'

(ڈاڑھی بڑھاؤ) ، 

'أَرْخُوا اللُّحٰی

'(ڈاڑھی لمبی چھوڑ دو)، 

یہ سب فعل امر کے صیغے ہیں۔ فعل امر سے جو حکم دیا جاتا ہے، اسے فقہا نے عموماً واجب قرار دیا ہے، بلکہ یہ اصول بیان کیا ہے کہ 'اَلْاَمْرُ لِلْوُجُوْبِ' یعنی صیغۂ امر وجوب کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے، الاّیہ کہ قرائن سے کچھ اور ثابت ہو جائے۔ چنانچہ اس اعتبار سے اگر دیکھیں تو ان لوگوں کی بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ ڈاڑھی رکھنا واجب ہے۔
لیکن ان احادیث کے بارے میں استاذ محترم غامدی صاحب کہتے ہیں کہ یہ ڈاڑھی سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مستقل حکم کو بیان نہیں کر رہیں، یعنی یہ احادیث ہمیں یہ نہیں بتاتیں کہ آپ نے ڈاڑھی کو ایک سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے، بلکہ ان میں ڈاڑھی اور مونچھوں کے اس متکبرانہ انداز کو اختیار کرنے سے مسلمانوں کوروکا گیا ہے جو بعض لوگ اس ماحول میں شوقیہ طور پر اختیار کر لیتے تھے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author