ڈاڑھی رکھنے میں مشکلات

سوال:

میں ایک خوش حال خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے حلقۂ احباب اور فیملی میں پسند نہیں کیا جاتااور مجھے اپنے دوستوں سے جملہ سننا پڑتا ہے کہ ڈاڑھی تمھارے چہرے پر اچھی نہیں لگتی اور خاص طور پر اکٹھے نکلنے میں دوست مجھ سے گریز کرتے ہیں۔ میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تھا تو انھوں نے کہاکہ ڈاڑھی کم از کم چار انگلیوں کے برابر ہونی چاہیے اور اس سے کم رکھنے میں گناہ ہوتا ہے۔ کیا میں ڈاڑھی کٹوا سکتا ہوں؟


جواب:

ڈاڑھی کے حوالے سے آپ جس مشکل سے گزر رہے ہیں،یہ مشکل کئی نوجوانو ں کو درپیش ہے۔ہماری سوسائٹی انھی سماجی طور اطوار کو پسند کرنے لگی ہے جن کا ہماری سماجی روایات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اب وہ مغرب کے سیاسی اور سائنسی غلبے کے باعث ہمارے ہاں مقبول ہوتے جارہے ہیں۔


بہتر تویہی ہے کہ ہم اس دباؤ کا مقابلہ کریں اور اپنی روایات کو جہاں تک ممکن ہو قائم رکھیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روایات محض اپنا ظاہر ہی نہیں رکھتیں، ان کے پیچھے ایک بڑا تصور یا اخلاقی احساس کارفرما ہوتا ہے۔یہی معاملہ مغربی روایات کا بھی ہے۔ مغرب کی بیش تر روایات آزادی اور برابری کے بے لگام تصورات سے وجود پذیر ہوئی ہیں اور ہماری روایات برابری کے بجاے حفظ مراتب اورآزادی کے بجاے خدا سے بندگی کے تعلق اورحیا کے جذبے کے تحت نشو ونما پاتی ہیں۔ظاہر ہے ایک سے اور طرح کی شخصیت نمودار ہوگی اور دوسرے سے دوسری طرح کی شخصیت نمودار ہوگی۔


ڈاڑھی انبیا نے رکھی ہے۔ ڈاڑھی فطرت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف موقعوں پر ڈاڑھی رکھنے کا ذکر مثبت طور پر کیا ہے۔ البتہ اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا ڈاڑھی رکھنا اسلام کے شرعی احکام کا حصہ ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author