دست شناسی (پامسٹری)

سوال:

میراسوال یہ ہے کہ کسی کا ہاتھ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں بتانا حلال ہے یا حرام؟ میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ جو ایسا کرتا ہے اس کی 40 دن کی مقبول نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ کیا یہ حدیث درست ہے ؟ اور کیا آپ نے اس طرح کی اور دوسری صورتوں کو جیسے جادو یا کاہن وغیرہ کے حوالے سے بھی حرام قرار دیا ہے ؟ جب کہ آجکل کے دور میں تو پامسٹری ایک باقاعدہ سائنس بن گئی ہے تو کیا جس طرح ہم آج موسم کے بارے میں بہت سی باتیں پہلے سے معلوم کر لیتے ہیں مثلاً یہ کہ بارش ہو گی یا نہیں وغیرہ تو اسی طرح کسی کے مستقبل کے بارے میں بھی معلوم کر لینا کیا ایک سائنٹفک تکنیک کے استعمال میں شمار نہیں ہو گا؟


جواب:

ہاتھ کی لکیروں سے مستقبل کا حال جاننے کا عمل جو پامسٹری یا chiromancy کہلاتا ہے دنیا بھر میں عام ہے۔ تاہم آج کے دن تک نہ تو اس کو سائنسی اعتباریت حاصل ہوئی ہے اور نہ واقعاتی شہادتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ آپ کی یہ بات کہ پامسٹری ایک باقاعدہ سائنس کی حیثیت اختیار کرگئی ہے محض آپ کا حسن ظن ہے۔ اس بات کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ موسم کی پیش گوئی ایک باقاعدہ سائنسی عمل ہے جو مشاہدے ، معلومات اور تجزیے پر مبنی ہوتا ہے ۔ سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس میں صحت اور درستی کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کو پامسٹری پر قیاس کرنا درست نہیں۔ ان سارے حقائق کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ جو لوگ پامسٹری اور علم نجوم وغیرہ کے پیچھے لگتے ہیں وہ اپنی زندگی ٹھوس منصوبہ بندی، محنت اور صلاحیتوں کے درست استعمال کے بجائے توہمات کے سہارے گزارنے لگتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی بھر ایک نفسیاتی مریض بن کر جیتے ہیں۔

اسلام کا سب سے بڑ ا احسان یہ ہے کہ اس نے انسانیت کو توہمات سے نکال کر حقائق کی دنیا میں لاکھڑ ا کیا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے دنیا میں جاری اللہ تعالیٰ کے قانون کو سمجھیں اور اس کے مطابق منصوبہ بندی کر کے اپنا لائحۂ عمل مرتب کریں اور پھر مستقبل کے لیے اللہ پر توکل کر کے معاملہ اس پر چھوڑ دیں ۔یہی قرآن پاک کی تعلیم ہے۔ اسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مختلف احادیث میں واضح کیا ہے اور لوگوں کو توہمات کے پیچھے جانے سے روکا ہے ۔ انھی احادیث میں سے ایک وہ ہے جس کا ذکر آپ نے کیا ہے ۔ یہ روایت صحیح ہے جو امام مسلم نے نقل کی ہے اور اس کا اصل متن اس طرح ہے:

’’جو شخص نجومی کے پاس گیا اور اس سے کوئی سوال پوچھا، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘(مسلم، رقم2230)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author