دين کا ماخذ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم

سوال:

غامدي صاحب نے اپني کتاب اصول ومبادي ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کو دين کا ماخذ قرار ديا ہے جبکہ قرآن مجيد ميں کئي مقامات پر (بقرہ 2:2 ، يونس10:15 ، انعام 6:38 - 114 اور شوري 42:52) پر بيان ہوا ہے کہ دين کا ماخذ قرآن مجيد ہے۔ قرآن مجيد سے يہ بھي واضح ہے کہ قانون سازي کا حق صرف اللہ تعالي کا ہے۔ غامدي صاحب نے اس بات کي کوئي دليل نہيں دي کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کيوں دين کا ماخذ ہيں؟


جواب:

قرآن مجيد ميں جو بات کہي گئي ہے وہ اس بات کا اظہار ہے کہ دين اللہ تعالي کي طرف سے آتا ہے اور خدا کا کلام خدا کي مرضي جاننے کا ذريعہ ہے۔ کسي شخص کو دين دينے کا کوئي اختيار نہيں ہے۔ اللہ کے رسول اور نبي جو کچھ کہتے ہيں وہ وحي پانے کے بعد ہي کہتے ہيں۔ دنيا کے دوسرے انسان خدا کي يہ ہدايت جس ہستي سے حاصل کرتے ہيں اسے اللہ ہي اس منصب پر فائز کرتے ہيں۔ اس ليے ہمارے ليے وہي ہستي دين کا ماخذ بنتي ہے۔ جس کتاب يعني قرآن مجيد کو آپ دين کا ماخذ قرار دے رہے ہيں اس کا ماخذ بھي خود رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي ذات گرامي ہے۔ مزيد براں اسلام تمام انبيا کا دين ہے۔ اس کے اعمال کا بڑا حصہ انبيا کي امتوں کي روايت ہے۔ چنانچہ ان اعمال کے بارے ميں قرآن مجيد نے صرف ان کي تعميل کا حکم ديا ہے اور اس کي تفصيل نہيں بيان کي۔ يہي سبب ہے کہ ان اعمال کو جاننے کا ذريعہ صرف سنت ہے۔ غرض يہ کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم سے ہميں دو چيزيں ملي ہيں ايک قرآن مجيد اور دوسرے سنت۔ چونکہ يہ دونوں چيزيں نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے قول و فعل سے امت نے پائي ہيں اس ليے يہ بات عين حقيقت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم دين کا ماخذ ہيں۔ سيرت کا مطالعہ کرنے سے بھي يہي بات واضح ہوتي ہے۔ قرآن مجيد تيئيس سال کے عرصے ميں نازل ہوا ہے۔ آپ پر ايمان لانے والے آپ ہي سے دين کے احکام معلوم کرتے تھے اور آپ ہي ان کو بتاتے تھے کہ مجھے يہ احکام ديے گئے ہيں اور يہ کلام ميرے اوپر نازل کيا گيا ہے۔ دين کے معاملے ميں صورت حال يہ نہيں ہے کہ نبي صلي اللہ عليہ وسلم پر صرف قرآن نازل ہوا اور اس ميں جو احکام بيان ہوۓ وہ آپ نے امت کو بتا ديے۔ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو انبيا کے دين کا وارث بنايا گيا تھا اور آپ نے خدا کے اصل دين کو ضرورت کے مطابق نۓ احکام کے ساتھ زندہ کرنا تھا۔ اس کام کے ليے آپ کي رہنمائي کي گئي اور جہاں جہاں ضرورت پڑي خدا کے کلام سے بھي نوازا گيا۔ چنانچہ قرآن مجيد آپ کو دي گئي رہنمائي کا ايک بڑا حصہ ہے۔ يہي وجہ ہے کہ اس امت کو آپ سے صرف قرآن ہي نہيں ملا ، بلکہ اس کے ساتھ سنت بھي ملي ہے۔ چونکہ ان دونوں چيزوں کا ماخذ نبي صلي اللہ عليہ وسلم کي ذات گرامي ہے اسي وجہ سے استاد محترم نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کو دين کا ماخذ قرار ديا ہے۔ بعض لوگوں کي نظر اس حقيقت کي طرف نہيں گئي اور انھوں نے وحي کو قرآن مجيد تک محدود مان کر قرآن مجيد کو ماخذ قرار دے ديا۔ چنانچہ ان ميں سے بعض کو دين کے نماز جيسے بڑے حکم کي عملي صورتوں کے علم سے محروم ہونا پڑا ہے۔ استاد محترم نے بات کي اصل حقيقت کو واضح کر کے دين کے ماخذ کي بحث کي الجھنوں کو حل کر ديا ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author