دين کا تنہا ماخذ رسول اللہ کي ذات ہے

سوال:

غامدي صاحب کے اس دعوي کہ " دين کا تنہا ماخذ رسول اللہ کي ذات ہے" کي دليل قرآن و حديث ميں کہاں ہے؟


جواب:

اس حوالے سے استاذ محترم جاويد احمد صاحب غامدي کي پوري بات آپ کے سامنے ہوني چاہيے تا کہ کوئي غلط فہمي نہ ہو۔ انہوں نے اپني کتاب ميزان کا آغاز ان الفاظ سے کيا ہے:

"دين کا تنہا ماخذ اس زمين پر اب محمد صلي اللہ عليہ وسلم ہي کي ذات والا صفات ہے۔ يہ صرف انھي کي ہستي ہے کہ جس سے قيامت تک بني آدم کو ان کے پروردگار کي ہدايت ميسر ہو سکتي اور يہ صرف انھي کا مقام ہے کہ اپنے قول و فعل اور تقرير و تصويب سے وہ جس چيز کو دين قرار ديں ، وہي اب رہتي دنيا تک دين حق قرار پائے:

هو الذي بعث في الامين رسولًا منهم يتلوا عليهم ايته ويزکيهم ويعلمهم الکتب والحکمة (الجمعہ 62:2)

وہي ذات ہے جس نے ان اميوں ميں ايک رسول انھي ميں سے اٹھايا ہے جو اس کي آيتيں ان پر تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکيہ کرتا ہے اور (اس کے ليے) انھيں قانون اور حکمت کي تعليم ديتا ہے۔
يہي قانون و حکمت وہ دين حق ہے جسے " اسلام" سے تعبير کيا جاتا ہے۔اس کے ماخذ کي تفصيل ہم اس طرح کرتے ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے يہ دين آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولي و عملي تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں ميں ہم تک پہنچا ہے :
1۔ قرآن مجيد
2۔ سنت
قرآن مجيد کے بارے ميں ہر مسلمان اس حقيقت سے واقف ہے کہ يہ وہ کتاب ہے جو اللہ تعالي نے اپنے آخري پيغمبر محمد صلي اللہ عليہ وسلم پر نازل کي ہے ، اور اپنے نزول کے بعد سے آج تک مسلمانوں کے پاس ان کي طرف سے بالاجماع اس صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ يہي وہ کتاب ہے جو محمد صلي اللہ عليہ وسلم پر نازل ہوئي تھي اور جسے آپ کے صحابہ نے اپنے اجماع اور قولي تواتر کے ذريعے سے پوري حفاظت کے ساتھ بغير کسي ادني تغير کے دنيا کو منتقل کيا ہے۔
سنت سے ہماري مراد دين ابراہيمي کي وہ روايت ہے جسے نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے اس کي تجديد و اصلاح کے بعد اور اس ميں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں ميں دين کي حيثيت سے جاري فرمايا ہے۔" ميرا يہ خيال نہيں ہے کہ اس ساري بات کو پڑھنے کے بعد کوئي اشکال باقي رہتا ہے۔ سورۂ جمعہ کي جو آيت غامدي صاحب نے اس ميں بيان کي ہے ، کيا اس سے يہ پتا نہيں چل جاتا کہ رسول اللہ کي ذات وہ ہستي ہے جس کے ذريعے سے اللہ نے قرآن ديا اور آپ ہي وہ ہستي ہيں جو انھيں اللہ کے دين ميں موجود قانون و حکمت کي تعليم ديتے تھے۔ يعني آپ ہي کے ذريعے سے امت کو قرآن ملا ہے اور آپ ہي کے ذريعے سے امت کو سنت اور حديث ملي ہے۔ اس کے علاوہ کئي آيات ہيں جن سے يہ پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ ہي دين کا ماخذ ، يعني قرآن و سنت کے ذريعے سے ملنے والے دين کي جڑ اور بنياد يا منبع ہيں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author