دین کی صحیح تعلیم اور خواتین

سوال:

ہمارے ہاں جو مختلف معاملات میں خواتین کے ساتھ فرق روا رکھا جاتا ہے اور سوسائٹی میں ان پر جو ظلم ہو رہا ہے، اس میں بہتری کے لیے آپ کیا فرمائیں گے؟


جواب:

میں یہ سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اسلام کا صحیح علم دیجیے، ان کو بتائیے کہ یہ رسوم و رواج الگ چیز ہیں اور اسلام بالکل الگ چیز ہے۔ اسلام نام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا۔ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے،اور یہ بات ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں۔ لوگ اس سے متعلق ایک ایک سوال سامنے رکھیں۔ ہم ان کو یہ بتانے کی پوزیشن میں ہیں کہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے، نہ وہ قرآن میں ہے، نہ حدیث میں ہے۔ اسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو سیاست کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، رسوم و رواج کی تائید کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ لوگ گھریلو ظلم اور تشدد کے لیے بھی اس کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رشتے قائم کیے ہیں، ان کے فرق کو ہر حال میں قائم رہناچاہیے۔ ماں، باپ، شوہر کو ایک درجہ برتری رہے گی۔ اس سے رشتے قائم ہوتے ہیں، تہذیب و تمدن قائم ہوتا ہے، گھر بنتا ہے اور خاندان وجود میں آتا ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author