دین اور مذہب کا فرق

سوال:

دین اور مذہب میں کیا فرق ہے ؟ کیا اسلام کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی دین پایا جاتا ہے؟ اور یہ جو قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’یقینا اسلام ہی بہترین دین ہے ‘، تو کیا پہلے کسی اور دین کو بہترین قرار دیا جاتا تھا؟


جواب:

اسلام کے سوا دنیا میں اور بھی بہت سے ادیان و مذاہب پائے جاتے ہیں ۔قرآنِکریم میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کوان میں سے بہترین دین قرار نہیں دیا ، بلکہ واحد مطلوب دین قرار دیا ہے ۔بہترین کا مطلب تو یہ ہوتا کہ دیگر ادیان بھی قابلِ قبول ہیں ، البتہ اسلام سب سے اچھا دین ہے۔ بات یوں نہیں ہے ، بلکہ قرآن تو یہ بتاتا ہے کہ اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ کسی اور دین کو لوگوں سے قطعاًقبول نہیں کریں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ ۔ ۔ اور جس نے اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین چاہا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نامرادوں میں سے ہو گا۔‘‘ ، (آل عمران3: 19 ، 85)

رہا یہ سوال کہ دین و مذہب میں کیا فرق ہے تو اس زمانے میں عام طور پر ان کے درمیان یہ فرق بیان کیا جاتا ہے کہ مذہب تو چند اعتقادات اور مراسمِ عبادت کا نام ہے جس کا تعلق بس فرد ہی سے ہے جبکہ دین کا مطلب ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس کا مدعا وہی ہے جو دور حاضر میں State (اسٹیٹ) کے لفظ سے ادا ہوتا ہے اور اس عتبار سے یہ اجتماعی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرتا ہے ۔ان لوگوں کے نزدیک اس اعتبار سے اسلام ہی واحد دین ہے جبکہ باقی ادیان اصل میں مذاہب ہیں ۔

تاہم قرآن کی یہ آیات جو اوپر نقل ہوئی ہیں اس نقطۂ نظر کی تردید کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ دیگر ادیان یعنی مسیحیت، یہودیت وغیرہ دین ہی نہیں ہیں ، بلکہ ان کا دین ہونا تو مانا گیا ہے ، لیکن ساتھ میں دو باتیں بتادی گئیں ہیں: ایک یہ کہ اللہ کا مطلوب دین صرف اسلام ہے اور دوسری یہ کہ کسی اور دین کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن قبول نہیں فرمائیں گے ۔

لغوی اعتبار سے بھی یہ بات سمجھ لیں کہ مذہب اور دین دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں ۔البتہ عربی میں مذہب کا لفظ دین کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مذہب نہیں کہا۔ اسی طرح دیگر مذاہب کو بھی مذہب نہیں کہا گیا ، بلکہ سب کے لیے دین ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جیساکہ اوپر کی آیت سے ظاہر ہے ۔ البتہ اردو میں مذہب اور دین دونوں ایک ہی مفہوم و مدعا کو ادا کرتے ہیں۔ جن معنوں میں عربی میں دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے اردو میں اس معنی میں مذہب کا لفظ بلا تکلف استعمال ہوتا ہے ۔دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author