ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس اور زكوة

سوال:

كيا بينك ميں جمع كی گئی فلسڈ ڈيپوزٹ رقم پر زكوة لاگو ہوتی ہے؟ يہی سوال ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس كے بارے ميں پيدا ہوتا ہے۔ ميرے والد صاحب ايك ريٹائرڈ سركاری ملازم ہيں۔ اب ميرے والدين بڑھاپے ميں ہيں اور ان كا ڈيفينس سيونگ سرٹيفيكيٹس كے علاوہ كوئی ذريعہ معاش نہيں ہے۔ ميں ان كے مالی معالمات ديكھتی ہوں۔ اس لئے جاننا چاہتی ہوں كہ آيا اس آمدن پر زكوة آتی ہے يا نہيں؟


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گی۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔

زکوۃ سے مستثنی چیزیں حسب ذیل ہیں:۔

١۔ پیداوار، تجارت اور کاروبار کے ذرائع

٢۔ ذاتی استعمال کی چیزیں

٣۔ حد نصاب سے کم سرمایہ

سوال یہ ہے کہ فکسڈ ڈیپازٹ یا سیونگ سرٹیفیکیٹ سرمایہ ہے یا انویسٹمنٹ ہے۔ پہلی صورت میں اس پر زکوۃ عائد ہو گی اور دوسری صورت میں اس پر زکوۃ عائد نہیں ہوگی۔ رہا یہ سوال کہ یہ کیسے طے ہوتا ہے کہ اس سرمائے کی کیا حیثیت ہے۔ اس میں صحیح نتیجہ معیشت کے عمومی اصولوں پرمنحصر ہے۔ بظاہر یہ صورت انویسٹمنٹ کی لگتی ہے لیکن اگر آپ بنک والوں سے پوچھ لیں تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author