درگزر كرنا

سوال:

1۔ ربِ کریم کے ہاں توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں لیکن انسانی معاشرے میں ایسا بہت کم ہے ۔ غلطی چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس کی معذرت بھی کی جائے تو بہت مشکل ہے اس کی معذرت قبول ہوتی ہے ؟ معاشرے کی اس خرابی پر روشنی ڈالیے ؟


2۔ کوئی اچھا کام کرنے کے لیے کیا یہ بات ضروری ہے کہ یہ ذہن میں ہو کہ اللہ سے اس چیز کا اجر ملے گا ۔ کیا انسان کی مدد عفی اس انسان کی خوشی کے لیے بھی تو ہو سکتی ہے ۔


جواب:

1۔ یہ خود تربیت کا نقص ہے یعنی انسانوں کی تربیت ہمارے ہاں اچھی نہیں ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف و صفات اپنے اندر پیدا نہیں کرتے یعنی اللہ کرم فرماتا ہے رحم فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے ۔ اور وہ پروردگار ہو کر معاف کرتا ہے تو بندوں کو تو آگے بڑھ کر معاف کرنا چاہیے اور اللہ اس کو بہت پسندیدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔ پیغمبروں نے اس کے بہت اعلیٰ نمونے پیش کیے ہیں تو یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سوسائٹی کے اندر لوگوں کو اس قسم کی چیزوں کا شعور بہت کم دیا گیا ہے ہمارا نظام تعلیم بھی یہ تربیت نہیں کرتا بلکہ ساری ساری تربیت انتقام لینے ، آدمی کو کسی کونے سے لگانے اور ا س کی کسی جہنم میں گرانے کے لیے ہوتی ہے ۔ ہم اپنی زینت کے اعتبار سے (نیک لوگ) اتمام حجت کے منصب پر کھڑے ہوتے ہیں یعنی آدمی کو بتا دیا جائے کہ حق کیا ہے لیکن یہ دعوت کا رویہ صحیح نہیں ۔ آپ کو اپنے بھائی کی اصلاح کرنی ہے مرتے دم تک ۔ صرفِ نظر کر کے اس کی غلطیوں پر پردہ ڈال کر مرتے دم تک یہی صحیح رویہ ہے ۔

2۔ بات یہ ہے کہ انسان بہت سے داعیات کے تحت یہ کام کرتا ہے ۔ اس کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے ۔ وہ دوسروں کی خوشنودی کے لیے بھی یہ کام کرتا ہے لیکن اگر وہ اس چیز کو اپنے پروردگار کی خوش نودی کا ذریعہ بنائے تو اس کو اجر اس کا ملے گا تو پروردگار کے ہاں یعنی داعیات کو اسی لیے رکھے گئے ہیں کہ غیر فطری مطالبہ اس سے نہ کیا جائے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ داعیات اندر نہ رکھے ہوتے اور وہ مطالبہ کرتا یہ دینِ فطرت نہ ہوتا اسلیے انسان کے اندر جو یہ داعیات ہیں ۔ ان ہی کو ابھار کر ان کا رخ ٹھیک کیا جاتا ہے اور ان کے محرکات درست کیے جاتے ہیں ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author