دفاع میں جہاد

سوال:

کیا یہ درست ہے کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب جہاد کے خلاف ہیں؟ آپ کا اس بارے میں کیا نقطہء نظر ہے؟


جواب:

جہاد کے بارے میں مولانا کا ایک نقطہء نظر یہ ہے کہ جہاد صرف دفاع کے لیے ہوتا ہے، اپنے اس نقطہء نظر کے حق میں انھوں نے دلائل دیے ہیں، انھیں پڑھ لیجیے، ہو سکتا ہے کہ آپ کا اطمینان ہو جائے۔ میرا ان کے استدلال پر اطمینان نہیں ہو سکا۔

اس حوالے سے میرا نقطہء نظر یہ ہے کہ دفاع کے لیے جنگ سرے سے دین کا موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ تو فطرت کا تقاضا ہے۔ جب کوئی آدمی مجھ پر چڑھ دوڑے گا تو میرا یہ فطری حق ہے کہ میں اپنا دفاع کروں۔ اس معاملے میں دین و شریعت کو کوئی حکم دینے کی ضرورت ہی نہیں۔

دین میں تو ظلم و عدوان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب کہیں انسانوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہو، ان پر زیادتی کی جا رہی ہو، اور خاص طور پر انھیں دین پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہو،دین پر عمل کرنا ان کے لیے جان جوکھم کاکام بنا دیا گیا ہو تو یہ فتنہ ہے، اس فتنے کے استیصال کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ دفاع کے طریقے پر بھی ہو سکتا ہے اور کسی پر حملہ کر کے بھی ہو سکتا ہے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author