دو بار نكاح

سوال:

جناب میں ایک مسئلے کے بارے میں پہلے بھی آپ سے رجوع کر چکی ہوں۔ اور آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے بروقت جواب بھیجا۔ لیکن اس سوال میں میں کچھ باتیں واضح کرنا بھول گئی، اس لیے انہیں آج واضح کر دینا چاہتی ہوں۔ وہ یہ کہ میں اور میرا منگیتر دونوں پٹھان فیملی سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ہماری شادی کا جو فیصلہ ہو چکا ہے وہ اٹل ہے۔ اور نہ ہی ہمارے والدین ہمیں یہ اجازت دیں گے کہ ہم جلدی نکاح کر لیں۔ اور یہ بھی واضح ہو کہ ہم شادی سے پہلے نکاح اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان جو ملاقاتیں ہوتی ہیں وہ حلال ہو سکیں۔ اور وہ گناہ کے شمارے میں نہ آئیں۔ اس لیے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ دو بار نکاح کرنے کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ کیا آپ اپنی منگیتر سے اپنے ملنے اور بات چیت کرنے کو حلال کرنے کے لیے نکاح کر سکتے ہیں جبکہ اصل نکاح خاندان کی سطح پر بعد میں ہوگا۔

میری رائے یہ ہے کہ آپ کو اپنی یہ ضرورت کم از لڑکی کے والدین سے ضرور منوانی چاہیے اس کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں ہو گا۔غیر اعلانیہ نکاح کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ نکاح کا قانون جہاں مرد وعورت کے تعلق کا پاکیزہ راستہ فراہم کرتا ہے وہاں اس تعلق کی بنیاد پر قائم اقدار کا بھی محافظ ہے۔ اس وجہ سے اس کا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو ان اقدار کے منافی ہو۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author