دورِ جدید اور دعوت

سوال:

میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمان امت کی تعلیم اور سوشل سروس جو معاشرے کے محروم طبقات میں بہترین سازوسامان کے ساتھ کی جارہی ہے، ہی صحیح دعوت ہے، لیکن میرے بعض دوست کہتے ہیں کہ اسلام کے عقائد واعمال کی دعوت ہی صحیح دعوت ہے۔ ازراہ کرم رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ کے نقطۂ نظر سے میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ لوگوں کے ہاں زیر بحث مسئلہ امت مسلمہ کے احیا کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنی موجودہ پستی سے نکل کر ایک بڑی قوم کی حیثیت کیسے اختیار کر سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ پستی ہمہ جہت ہے، اس لیے احیا کی مساعی بھی ہمہ جہت ہونی چاہیے۔ عقائد واعمال کی اصلاح بھی ضروری ہے اور سماج اور معاشرے کے سدھار کی مساعی بھی ناگزیر ہیں۔ ایک طرف ایسے تعلیمی ادارے وجود میں لانے چاہییں جو معاشرے کے افراد کو دین ودنیا، دونوں کے اعتبار سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق تعلیم دے سکیں، معاشرے میں موجود طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ہو اور معاشرے کو اعلیٰ درجے کے سائنس دان، ماہرین معیشت، ماہرین تعلیم، ماہرین سماج اور ماہرین علوم دینیہ وغیرہ حاصل ہوں۔ دوسری طرف سماجی اور سیاسی سطح پر تبدیلیوں کے لیے ایسی قیادت پیدا کی جائے جو موجودہ فرسودہ قیادت کی جگہ لے سکے ۔ لوگوں کے اخلاق اور نفسیات کی اصلاح کے لیے ایسے مربی میدان میں اتریں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کام کا ذوق اور صلاحیت دی ہے۔


تعلیم اور سوشل سروس بھی اس ہمہ جہت پروگرام کا اہم جزہے۔ عقائد واعمال کی اصلاح کی مساعی کے بغیر بھی یہ کام پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author