درود كی حقيقت

سوال:

جاويد احمد غامدی صاحب نے ايك گفتگو ميں درود ابراہيمی كی اہميت بيان كی ہے۔ انہوں نے درود ابراہيمی اور كچھ دوسرے رائج درود مثلا درود تاج اور تنجينہ وغيرہ كے مابين فرق پر بھی بات كی ہے۔ ميں يہ چاہتا ہوں كہ آپ مدرجہ ذيل سوالات پر ايك تفصيلی جواب قرآن و سنت كی روشنی ميں ديں۔

درود كی حقيقت كيا ہے؟ كون سے درود الہامی اور كون سے انسانی ہيں؟ الله اور رسول صلی الله عليہ و سلم نے كب اور كو ن سے درود سكھائے ہيں؟ ہم درود آخر كيوں پڑھتے ہيں؟


جواب:

درود فارسی زبان کا لفظ ہے، اس سے مراد وہ کلمات یا الفاظ ہوتے ہیں جو ملاقات کے موقع پر ِ تحیت و آداب (greetings) کے لئے بولے جاتے ہیں ۔ جیسے ہیلو، السلام علیکم، ہائے وغیرہ۔

اسی معنی کی وجہ سے ہمارے ہندوستان میں یہ لفظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بولے گئے دعائیۃ کلمات کے لیے بولا جانے لگا۔ اس لیے کہ ادھر کے مسلمانوں کا ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر مانتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جب ہم کوئی مجلس منعقد کرتے ہیں تو نبی اکرم وہاں تشریف لاتے ہیں، چنانچہ جب کوئی شخص تشریف لاتا ہے تو پہلے سے موجود لوگ اسے آداب و تحیت greetings پیش کرتے ہیں ۔ اس لیے ان مسلمانوں نے کہنا شروع کیا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوآداب پیش( greet)کرو۔ اس کے لیے فارسی کا لفظ درود استعمال کیا گیا۔لیکن بعد میں یہ مجالس کے علاوہ ہر موقع پر بولے گئے دعائیہ کلمات کے لیے بھی بولا جانے لگا،اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کہے گئے دعائیہ کلمات ہی کے لیے مخصوص ہو گیا۔

درود کوئی اسلامی اصطلاح نہیں ہے بلکہ محض ایک علاقائی(پاک و ہند کی) اصطلاح ہے۔اس لیے اس لفظ کی کوئی دینی اہمیت نہیں ہے۔ امت کا ایک بڑا حصہ اس لفظ ہی سے ناواقف ہے: تمام عرب ، تمام افریقی، شاید تمام ایرانی مسلمان بھی اس کے اس معنی سے ناواقف ہیں۔ پورے قرآن و حدیث میں یہ لفظ کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔

اردو میں استعمال کے لحاظ سے درود اور صلواۃ میں کوئی فرق نہیں ہے۔البتہ لغوی اعتبارسے دونوں میں فرق موجود ہے۔

اصل حکم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر مسلمان کا دین اور محبت کا تعلق ہے۔دینی تعلق کے واسطے سے ہم ان سے تعلیمات اخذ کرتے ہیں، محبت کے تعلق کے واسطے سے ہم ان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ان کے لیے غیرت و حمیت دل میں رکھتے ہیں ،ان کا احترام کرتے ، ان کے حضور میں کچھ پیش کرنا چاہتے ہیں،وغیرہ۔

اس جذبے کی تسکین کے لیے ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سلامتی اور فضل کی دعا کریں۔اسی دعا کو ہم پاک و ہند کے لوگ درود کہتے ہیں۔قرآن مجید میں اس دعا کا حکم یوں آیا ہے:

إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب 33:56)

اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر رحمت بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر رحمت اور سلام کے لیے دعا کیا کرو۔

یہ اس آیت کا صحیح ترجمہ ہے لیکن ہمارے ہاں اب اس کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے:

اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو۔

حالانکہ یہ ترجمہ بہت ہی غلط ہے۔ اس لیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی بھی درود بھیجتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پر بیٹھ کر اللہ تعالی بھی دعا کرتے ہیں کہ :

اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت بھیج۔

یہ نہایت ہی گمراہ کن بات ہے کہ اللہ تعالی بھی اپنے اللہ سے دعا کرے کہ وہ نبی اکرم پر رحمت بھیجے۔ درود میں جتنے بھی کلمات ہیں وہ دعائیں ہی ہیں۔مثلا نماز میں جو درود ہے اس کے کلمات یہ ہیں کہ

اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم انك حميد مجيد

ان کا مطلب یہ ہے کہ:

اے اللہ محمد پر فضل کر، اور آل محمد پر فضل کر جس طرح تو آپ نے ابراہیم پر اپنا فضل کیا ، بلاشبہ اے اللہ آپ حمید و مجید ہیں ۔ اور محمد پر برکات بھیج اور آل محمد پر برکات یھیج جیسے آپ نے ابراہیم کو برکات دیں بلاشبہ اے اللہ آپ حمید و مجید ہیں ۔

اب ذرا آیت کے درود والے ترجمہ کے مطابق تصور کریں کہ اللہ بھی کہہ رہا ہے کہ اے اللہ محمد پر فضل کر ... ۔کیونکہ درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کلمات پڑھے جائیں۔چنانچہ اللہ تعالی اگر یہ کلمات پڑھتے ہیں تو وہ بھی بس یہی کہتے ہیں کہ اے اللہ محمد پر فضل کر...ہم نے اوپر صحیح ترجمہ بھی لکھ دیا ہے، جو جید اہل علم کرتے ہیں۔

اس آیت میں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کا حکم دیا گیا ہے اور پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنی رحمت آپ پر نازل کرتا ہے ، تو تم ان کے لیے دعا کرو کہ ان پر یہ رحمتیں نازل ہوتی رہیں۔یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ جب وہ زندہ تھے تو ان کی سلامتی کی دعا ہمارے دل سے نکلتی اور اب جب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کی کے لیے فضل و درجات کی دعا ہمارے دل سے نکلے۔ بس درود کی حقیقت یہی ہے۔ ہم آپ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ رحمت نازل کرتے ہیں۔ فرشتے دونوں کام کرتے ہیں ، وہ آپ کے لیے دعا بھی کرتے ہیں اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں اللہ کی رحمت و عنایت نبی اکرم پر نازل بھی کرتے ہیں۔

جن کلمات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے درجات کی بلندی، سلامتی ،اور مقام محمود پر اٹھائے جانے کی دعا کی جائے وہ درود صحیح ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختصر ترین الفاظ جو امت نےشروع سے اختیار کیے ہیں اور اوپر جو آیت ہے اس کے عین مطابق ہیں وہ تو یہ ہیں :

صلی اللہ علیہ وسلم

اس میں آیت کے حکم کے مطابق دونوں چیزوں کو مانگا گیا ہے فضل بھی اور سلامتی بھی۔

احادیث مبارکہ میں بھی بعض درود کے کلمات وارد ہیں ، جیسے کہ ہم ایک درود کی دعا اوپر نقل کی ہے۔بخاری وغیر ہ میں اسی کے کچھ مختلف کلمات بھی آئے ہیں مثلا:

اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد

اس میں آل کے بجائے آپ کی اولاد اور ازواج کا ذکر ہے، خط كشيدہ الفاظ اسی کی نشاندہی کررہے ہیں۔

التحیات میں بھی درود شامل ہے ، ہم کہتے ہیں: السلام عليك ايها النبي ، اے نبی آپ پر سلامتی ہو۔

لوگوں نے جو درود لکھے ہیں ، ان مثلا درود تاج، درود تنجینہ وغیرہ بہت سے ہیں، کوشش کریں کہ ان کو نہ پڑھیں کیوں کہ ان میں سے بعض میں الفاظ و مضامین ،نبی پاک کے شایان شان نہیں ہیں۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.