دعا کی قبوليت

سوال:

میں یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ گزشتہ پچاس سال میں میری کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔ میں نے کبھی کسی حرام یا ناجائز چیز کے حصول کی دعا نہیں کی۔ میری ذہن میں یہ بات ہے کہ جو بھی چیز میں اللہ تعالی سے مانگتا ہوں مجھے نہیں ملتی۔ میرا ذہن بات قبول نہیں کر رہا کہ کہ جو بھی میں نے ان پچاس سالوں میں مانگا وہ میرے حق میں بہتر نہیں تھا۔ اگر اللہ تعالی نے ہماری ردخواست نہیں سننی اور صرف وہ عطا کرنا ہے جو ہمارے لئے اچھا ہے تو پھر دعا کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی کا ہر کام حکمت اور عدل پر مبنی ہے تو پھر یہ کہنا کیوں ضروری ہے کہ اللہ دے یا نہ دے، بخشے یا نہ بخشے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ "اس کی مرضی"۔ یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔


جواب:

اﷲ تعالیٰ سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔وہ اتنا کریم ہے کہ ہماری ضروریات کی سوف فیصد چیزیں وہ بغیر مانگے ہی دے دیتا ہے۔ فرض کیجیے وہ ہماری بصارت یا سماعت لے لیتا۔ ہاتھ یا پاؤں نہیں دیتا۔ جگر یا دل خراب کردیتا۔ وہ یہ تمام چیزیں اور ان جیسی ان گنت چیزیں نہ صرف ہمیں بن مانگے دیتا ہے بلکہ مستقل دیے رہتا ہے۔

جہاں تک آپ کی دعا نہ قبول کیے کا سوال ہے تو یہ یقین رکھیے کہ باالفرض اس نے آپ کی کبھی کوئی دعا پوری نہیں کی تب بھی ان میں سے ہر دعا کے بدلے وہ جنت میں وہ سب کچھ آپ کو دے گا جو آپ تصور میں بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے دعا مانگنے کا عمل کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ البتہ دعا کو فرمائشی لسٹ نہیں ہونا چاہیے بندگی اور عجز کے احساس سے بھرپور ہونا چاہیے۔ ایسی دعائیں خصوصی توجہ سے سنی جاتی ہیں۔

جہاں تک نہ دینے کا سوال ہے تو وہ ایسا اپنی مرضی چلانے کے لیے نہیں کرتا۔ اس میں ہماری ہی کوئی بہتری ہوتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو دولت مانگتے ہیں اور دولتمند بن کر ناشکری کرتے ہیں۔ عورت چاہتے ہیں اور اس سے شادی کرکے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے جو نہ ملا اس کا گلہ کرنے کے بجائے شکر کرنا چاہیے کہ کسی بڑی برائی ہی سے بچایا گیا ہوگا۔

مجھے یقین ہے کہ اگر آپ یہ رویہ اختیار کریں گے تو اﷲ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول کرکے آپ کو بہتر سے بہتر چیز عطا کریں گے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author