دنیا کا پہلا انسان

سوال:

کیا آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان تھے یا انسان کی تخلیق ان سے پہلے ہو چکی تھی۔ انسان کی تخلیق کیسے ہوئی تھی؟ کیا آدم علیہ السلام ہی پہلے نبی ہیں یا نوح علیہ السلام پہلے نبی ہیں۔ نیز فرشتوں کے آدم کو سجدہ کرنے کا واقعہ کیا کوئی حقیقی واقعہ ہے یا یہ قرآن کا ایک انداز تمثیل ہے؟


جواب:

یقینا آدم علیہ السلام ہی دنیا کے پہلے انسان تھے۔

ارشاد باری ہے:

خَلَقَہ، مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہ، کُنْ فَیَکُوْنُ.(آل عمران٣:٥٩)

''خدا نے اس (آدم) کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ تو ہو جا تو وہ ہو گیا۔''

یعنی آدم کے ماں باپ نہ تھے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ نے آدم کو مٹی سے کیسے بنایا تو یہ اُن امور میں سے ہے، جن کا اللہ نے ہمیں مشاہدہ نہیں کرایا۔لہٰذا، ہم یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، بس جتنے الفاظ قرآن میں آئے ہیں، انھی کو بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ وہ مٹی جس سے آدم کو بنایا گیا تھا ،وہ پہلے گارا تھی پھر سوکھ کر کھنکھنانے لگی، پھر ایک مرحلے پر اس میں روح پھونکنے کا عمل ہوا تھا۔ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس عمل کی حقیقت کیا تھی۔

یقیناآدم علیہ السلام ہی پہلے نبی تھے، جیسا کہ ارشاد باری ہے:

اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ.(آل عمران٣:٣٣)

'' بے شک اللہ نے منتخب فرمایا (نبوت کے لیے) آدم ، نوح اور آل ابراہیم کو۔''

اس آیت میں آدم علیہ السلام کی نبوت کا ذکر ہے۔

فرشتوں کے سجدہ کرنے کا واقعہ تمثیلی نہیں ،بلکہ حقیقی ہے۔ اس کا حکم اللہ نے تخلیق آدم سے پہلے ہی فرشتوں کو دے دیا تھا۔ ارشادباری ہے:

وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰۤئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ فَاِذَا سَوَّیْتُہ، وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ، سٰجِدِیْنَ.(الحجر١٥:٢٨-٢٩)

'' اور یاد کرو جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں تو جب میں اس کو مکمل کر لوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک لوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔''

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو تخلیق آدم سے پہلے ہی سجدے کا حکم دے دیا تھا۔ چنانچہ یہ بات تمثیلی نہیں ہو سکتی۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author