دنيا كي مشكلات میں حكمت

سوال:

میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو کہ اسلام سے متعلق نہیں ہے بلکہ میرے ایک دوست، جو کہ مختلف مسائل کا شکار ہے، کے ایک مسئلے کے بارے میں ہے ۔ دراصل وہ ایک کالج میں اردو کا امتحان دے رہا تھا اور ساتھ ایک کمپنی میں کام بھی کرتا تھا۔ بدقسمتی سے کمپنی والوں نے پیپر والے دن اسے چھٹی نہیں دی۔ اسے کام کرنا تھا اور کچھ گھنٹوں کی چھٹی لے کر پیپر دینے جانا تھا۔ بدقسمتی سے وہ فیل ہو گیا۔

میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس کی کامیابی کے لیے دعا فرمائیے کیوں کہ اب اس کے پاس صرف ایک چانس رہ گیا ہے۔اور میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کے خیال میں اس سب کے پیچھے کوئی حكمت پوشیدہ ہے؟

امید ہے کہ آپ اس سوال کے پوچھے جانے پر برا نہیں منائیں گے۔ میرا دوست بدقسمتی سے اس بڑی مصیبت کا سامنا کر رہا ہے اور اب تقریباًمایوسی کا شکار ہو گیا ہے۔

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے۔

آپ نے پوچھا ہے کہ آپ کے دوست بار بار امتحان میں فیل ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ ایسے معاملات کا پیش آنا ہے جس میں ان کا کوئی بس نہیں ہے اور وہ اس کے نتیجے میں مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملات کی کیا حکمت ہوتی ہے۔

تدبیر اور تقدیر کا اٹوٹ تعلق ہے۔ بعض اوقات درست سعی بھی ناکام ہو جاتی ہے اور بعض اوقات ناقص سعی بھی نتیجہ خیز ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں جس امتحان میں ڈالا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ایسے حالات پیش آتے رہیں جو ہمارے لیے نا مطلوب ہوں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ہمارا یہ فیصلہ کہ ہم بندگی کی زندگی گزاریں گے اور اعلی اخلاق پر قائم رہیں گے حقیقت کی زمین پر ثابت ہو جائے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے تدبیر میں ناکامی اپنے اندر دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک یہ کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ ہم نے تدبیر کرنے میں کیا کمی کی تھی اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالی ہمیں بعض دوسرے مواقع کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں جو فی الحال ہمیں نظر نہیں آرہے ہوتے۔

مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور خدا کے ساتھ تعلق کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ اپنی تدبیر اور سعی کی کمی کو دور کرتے رہیں۔ تمام معاملات محض خدا کی مدد وتوفیق پر منحصر ہیں چنانچہ اصل بھروسا صرف خدا پر ہونا چاہیے۔ پھر جو بھی سامنے آئے اس پر شاکر و راضی ہونا چاہیے اس بھروسے کے ساتھ خدا کو اس سے زیادہ خیر مطلوب ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author