ایمان بالغیب اور مذہبی حقائق

سوال:

جو چیزیں حواس کی گرفت میں نہیں آتی ہیں، ان کو دیکھے بغیر مان لینے کے نتیجے میں مذہبی حقائق کیا علم اور عقل کی میزان پر پورے اترتے ہیں


جواب:

بالکل آخری درجے میں پورے اترتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثال کے طور پر ہم اللہ تعالیٰ کواس لیے مانتے ہیں کہ کائنات اپنی توجیہ آپ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ اپنے آپ کو خود Explain نہیں کر پاتی۔ یعنی یہ کہاں سے آ گئی، اس کے اندر یہ نظم کہاں سے آ گیا، یہ معنویت کہاں سے آئی، یہ غیر معمولی ربط و نظام کہاں سے آیا، یہ وسعت، یہ عظمت کہاں سے آئی، اس کے اندر یہ مخلوقات کہاں سے آئیں؟ جب یہ اپنی توجیہ خود نہیں کر پاتی تو پھر عقل تقاضا کرتی ہے کہ اس کا ایک خالق ہونا چاہیے۔ یہ اپنے وجود سے اپنے مخلوق ہونے کی گواہی دے رہی ہے۔ یہ چیز ہمارے حواس کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ اس چیز کا ہم تجربہ کر لیتے ہیں۔ جب عقل کہتی ہے کہ یہ ہونی چاہیے تو جیسے ہی عقل کہتی ہے کہ یہ ہونی چاہیے تو ہمارا وجدان اس کو رد نہیں کرتا۔ آپ کشش ثقل کی مثال لے لیجیے۔ اس کے بارے میں جب نیوٹن نے یہ کہا کہ ایک ایسی قوت موجود ہے جو چیزوں کو ان کی کثافت کے لحاظ سے کھینچ رہی ہے تو یہ اتنی واضح بات تھی کہ ہمارے وجدان نے اس کو قبول کر لیا۔ اسی طرح جب ذات خداوندی کے بارے میں بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ ہمارا ایک خالق ہونا چاہیے تو ہمارا وجدان اس کو فوراً قبول کر لیتا ہے۔ یہ قبولیت اس بات کی دلیل بن جاتی ہے کہ انسان کے لیے یہ اجنبی چیز نہیں۔ اس کے بعد ہم تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے آبا سے خدا کا تصور اسی تسلسل اور تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے، یہ کسی خاص دور کی پیداوار نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد الہامی صحائف ہمیں اس کے بارے میں وہ آخری دلائل دے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کا انکار کرنے کی گنجایش نہیں رہتی۔ یہ چیز ایک خالص عقلی چیز ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی جیسے ہم علمی حقائق کو مانتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر کوئی آدمی یہ اصرار کرتا ہے کہ میں چیزوں کو دیکھ کر مانوں گا تو وہ اصل میں اپنے انسان ہونے کے شرف کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔ انسان اس پر اصرار نہیں کرتا۔ یہ تو جانور ہیں جو صرف حواس کے علم تک محدود رہتے ہیں۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author