عیسیٰ علیہ السلام

سوال:

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے یا حضرت مریم کی شادی ہوئی تھی اور اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے یا ان کی طبعی وفات ہوئی تھی؟


جواب:

عیسیٰ علیہ السلام یقینا بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰی عِنْدَاللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ، خَلَقَه، مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَه، کُنْ فَيَکُوْنُ، اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ.(آل عمران٣:٥٩-٦٠)

''بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے، اس کو مٹی سے بنایا ،پھر اس کو امر کیا کہ توہو جا تو وہ ہو گیا۔ یہی بات تمھارے رب کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔''

یہ آیت واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کا معاملہ آدم علیہ السلام کی پیدایش کی مثل ہے اور آپ اسی طرح بغیر باپ کے مریم کے پیٹ میں حرف کن سے پیدا کیے گئے تھے، جیسے آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے مٹی سے حرف کن کے ساتھ پیدا کیے گئے تھے۔ پھر اس کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت بھی کر دی ہے کہ یہی بات حق ہے ، لہٰذا، اے مخاطب، تم شک کرنے والوں میں نہ بنو۔

عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا قرآن مجید میں دو مقامات پر ذکر موجود ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا، بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ.(النساء٤:١٥٧-١٥٨)

''انھوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔''

اور فرمایا:

اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰۤی اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ.(آل عمران٣:٥٥)

''جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ ''

ان دونوں آیات سے یہ پتا چلتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے ہرگز قتل نہیں کیا تھا، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، البتہ اللہ نے انھیں وفات دی تھی اور پھر اللہ نے ان کے بے جان جسم کو یہود کے ہاتھوں سے بچانے کے لیے اپنے پاس اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ یہی بات صحیح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔

اس سب کے باوجود اگر انھیں دنیا میں دوبارہ آنا ہے تو اس میں عقلاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ جن احادیث میں ان کے دنیا میں دوبارہ آنے کا ذکر ہے، خود قرآن مجید ہی کی بعض آیات ان سے متصادم ہیں، لہٰذا ان آیات کی روشنی ہی میں ان احادیث کو سمجھنا چاہیے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author