عیسائیت قبول کرنے والے کی سزا

سوال:

اگر کوئی مسلمان عیسائی ہو جائے تو اس کی کیا سزا ہے؟ ہمارے ہاں افغانستان میں ایک مسلمان عیسائی ہو گیا ہے۔ ہمارے لوگ کہتے ہیں کہ اس کی سزا موت ہے؟


جواب:

ارتداد کی سزا موت ہے ، یہ بات بالکل درست ہے ، لیکن اس کا اطلاق صرف ایک خاص گروہ کے لیے تھا۔ اصل اصول یہ ہے کہ پیغمبر کے منکرین کے لیے سزاے موت طے ہے۔ اگر پیغمبر کے ساتھی تعداد میں کم ہوں تو پیغمبر کو بستی چھوڑنے کا حکم دے دیا جاتا ہے اورمنکرین پر آسمان سے موت کی سزانافذ ہو جاتی ہے،لیکن اگر پیغمبر کے ساتھی مناسب تعداد میں ہوں تو یہ سزا ان کے ہاتھوں منکرین پر نافذ ہوتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہی دوسرا طریقہ عمل میں آیا۔ ارتداد کی سزا اسی قانون کی فرع ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی منکر رسول مسلمان ہو جانے کے بعد کفر اختیار کرے گا تو اسے وہی سزا دی جائے گی جو رسول کے منکر کے لیے مقرر ہے۔

ہمارے نزدیک ، جیسا کہ میں نے جواب کے شروع میں لکھا ہے، ارتداد کی سزا مشرکین عرب میں سے مسلمان ہو جانے والوں کے لیے تھی۔ اس سزا کا بعد میں ہونے والے ارتداد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب موت کی سزا صرف دو طرح کے مجرموں ہی کو دی جا سکتی ہے۔ ایک وہ جو محاربے یا بغاوت کے مجرم ہوں اور دوسرے وہ جنھیں قاتل ہونے کی بنا پر قصاص میں قتل کیا جائے۔ کوئی تیسرا جرم اسلامی شریعت میں ایسا نہیں ہے جس کی سزا موت ہو۔

متعلق سوال کے لیے دیکھیے: http://al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?art_id=505&id=174

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author